ماسکو تہران کا ایک وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار بنا رہے گا، ولادیمیر پیوٹن

Wait 5 sec.

ماسکو (21 مارچ 2026): امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا بڑا اور اہم بیان سامنے آ گیا ہے۔روئٹرز کے مطابق کریملن نے ہفتے کے روز بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی قیادت کو نوروز کی مبارک باد دی اور کہا کہ ماسکو تہران کا ایک وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار بنا رہے گا۔کریملن کے بیان میں کہا گیا کہ پیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ اور ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کو ایرانی نئے سال (نوروز) پر مبارک باد بھیجی، اور کہا ’’ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی عوام کے لیے خواہش ظاہر کی کہ وہ ان سخت آزمائشوں کا باوقار طریقے سے مقابلہ کریں، اور اس بات پر زور دیا کہ اس مشکل وقت میں ماسکو تہران کا ایک وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار بنا رہے گا۔‘‘روس کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں نے پورے مشرق وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور ایک بڑے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے، جب کہ پیوٹن نے ایرانی سپریم لیڈر کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’سنگ دلانہ‘‘ قتل قرار دیا۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںتاہم، ایران کے لیے ماسکو کی حمایت کی حد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ 1979 کے انقلاب، جس میں امریکا کے حمایت یافتہ شاہ کا تختہ الٹا گیا تھا، کے بعد موجودہ بحران ایران کے لیے سب سے بڑا ہے، لیکن اس میں انھیں روس سے عملی طور پر بہت کم مدد ملی ہے۔واضح رہے کہ روس اور ایران کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے میں باہمی دفاع کی کوئی شق شامل نہیں ہے، اور روس بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرے، کیوں کہ ماسکو کے مطابق اس سے مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔