کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے متعلق کہا کہ ’’فضائی حملے شروع ہوئے 21 روز گزر چکے ہیں۔ وزیر اعظم کے اسرائیل دورے سے واپسی کو بھی 23 روز گزر چکے ہیں، جس کی خوب تشہیر کی گئی تھی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ کیا مودی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملے کی مذمت یا تنقید کی ہے؟ جس کی وجہ سے ہندوستان سمیت ہر جگہ سنگین معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس کا براہ راست جواب ہے کہ اب تک نہیں۔ کیا مودی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں میں ایران کے سینئر لیڈران کی موت کی مذمت یا تنقید کی؟ جواب ہے نہیں۔अमेरिका और इजरायल द्वारा ईरान पर हवाई हमले शुरू हुए आज ठीक 21 दिन, यानी तीन सप्ताह हो चुके हैं। प्रधानमंत्री के अपने बहुचर्चित इजरायल दौरे से लौटे भी 23 दिन हो चुके हैं।क्या मोदी सरकार ने अमेरिका और इजरायल द्वारा ईरान पर किए गए इस भीषण हवाई हमले की निंदा, आलोचना या खेद व्यक्त…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) March 21, 2026جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کیا مودی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اقتدار کی تبدیلی اور ریاست کے خاتمے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی ظالمانہ کوششوں کی مذمت یا تنقید کی ہے؟ جس کی وجہ سے ایران میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ جواب ہے نہیں۔‘‘ کیا مودی حکومت نے ایران پر بمباری اور خلیجی ممالک میں توانائی اور دیگر ضروری بنیادی ڈھانچے پر ایران کے حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں اور اقدامات کی ہیں؟ کیا وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ اپنی مشہور دوستی کا استعمال جنگ بندی کے لیے کیا ہے؟ جواب ہے نہیں۔ انہوں نے اخیر میں لکھا کہ ’’یہ چاروں نہیں ہندوستان کی تہذیبی اقدار کے تئیں سیاسی سیاسی بزدلی اور سیاسی غدارکی کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان شدید تنازعہ جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ایران نے بھی اسرائیلی اور امریکی ٹھکانوں پر شدید جوابی حملے کیے ہیں۔ ایران نے حال ہی میں قطر کے انرجی انفراسٹرکچر پر حملہ کیا، جس سے قطر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔