آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوششیں، جنوبی کوریا کا حصہ لینے کا اعلان

Wait 5 sec.

سیول (21 مارچ 2026): جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے.جنوبی کورین وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں خلل براہِ راست جنوبی کوریا کی توانائی کی فراہمی اور معیشت کو متاثر کر رہا ہے، جس کے جواب میں اس نے ایندھن کی قیمتوں کو محدود (کیپ) کر دیا ہے اور کوئلے اور جوہری توانائی کی طرف رجوع کر رہا ہے۔وزارت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ’’مشترکہ اعلامیے میں شرکت اس بات کی تصدیق کے لیے اہم ہے کہ ہم آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘واضح رہے کہ گزشتہ روز نیدرلینڈز، اٹلی، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور جاپان نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا، جس میں خلیج میں تجارتی جہازوں پر ایران کے حملوں اور آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کی مذمت کی گئی تھی۔ ان ممالک نے یہ بھی کہا کہ وہ ’’آبنائے سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات‘‘ میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںبحرین اور کینیڈا نے بھی ان کوششوں میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عالمی تیل کی منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی یقینی بنانے میں مدد کے طور پر جنگی جہاز اور بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز (مائن سویپرز) بھیجیں، تاہم ابھی تک کسی نے باقاعدہ وعدہ نہیں کیا۔ بعد میں انھوں نے نیٹو اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے انھیں ’’بزدل‘‘ قرار دیا کہ وہ اس معاملے میں امریکا کی مدد نہیں کر رہے۔جعمرات کو چند یورپی ممالک اور جاپان نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ’‘ہم آبنائے سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات میں حصہ لینے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘ بیان کے جاری ہونے کے کچھ ہی دیر بعد کینیڈا نے بھی تصدیق کی کہ وہ اس مشترکہ اعلامیے میں شامل ہو رہا ہے۔