ہندوستان میں خشک سالی کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ شدید اثر گنگا کے میدانی علاقہ (آئی جی پی) اور شمال مشرقی ہندوستان میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ حالیہ سائنسی مطالعات کے مطابق کمزور مانسون، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور زمینی پانی کے بے تحاشہ استحصال نے ملک کے پانی کے بحران کو ایک نئی اور خطرناک سطح پر پہنچا دیا ہے۔جرنل کلائمیٹ چینج میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ہندوستان کے 6 بڑے خطوں مغربی، وسطی، ہمالیائی، آئی جی پی، جزیرہ نما اور شمال مشرقی ہندوستان میں خشک سالی اور ہائیڈرو کلائیمیٹک عدم استحکام میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خشک سالی کی پیمائش کرنے والے اشارے جیسے کہ ایس پی ای آئی، ایس ایل اے اور این سی ایس بتاتے ہیں کہ ملک میں خشکی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور آب و ہوا کے نئے غیر معمولی نمونے ابھر رہے ہیں۔ آئی جی پی (0.47-) اور شمال مشرقی (0.41-) میں ایس پی ای آئی کی قدریں سب سے زیادہ کمی کو ظاہر کرتی ہیں جو شدید خشک سالی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ہمالیہ (0.21-) اور وسطی ہندوستان (0.07-) نسبتاً کم متاثر ہوئے ہیں۔جموں و کشمیر میں بارش نہ ہونے کے سبب خشک سالی والی حالت، سخت سردی کے درمیان محکمہ موسمیات نے جاری کیا الرٹماہرین کے مطابق دن اور رات میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور بارشوں میں کمی ان خطوں میں نمی کو تیزی سے ختم کر رہی ہے۔ ستمبر 2025 میں پی این اے ایس ارتھ، ایٹماسفیرک اینڈ پلینیٹری سائنسیز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دریائے گنگا کے طاس نے 1991 اور 2020 کے درمیان گزشتہ 1,300 سالوں میں سب سے زیادہ شدید خشک سالی کا سامنا کیا۔ایران میں خشک سالی ! شوریٰ کے رکن نے موجودہ صورتحال کے لیے خواتین کو بتایا ذمہ داراقوام متحدہ یونیورسٹی کی گلوبل واٹر بینکرپسی رپورٹ کے مطابق پانی کا بحران اب نہ صرف ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے بلکہ اقتصادی، سیاسی اور قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ ماہر کاویح مدانی کے مطابق آبی وسائل کی کمی مستقبل میں ملکوں اور معاشروں کے درمیان تنازعات کو بڑھا سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں پانی کا 85 فیصد سے زیادہ استعمال زراعت میں ہوتا ہے، اس لیے یہاں بھی حل پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ڈرپ ایریگیشن، سولر پمپ، پانی کی بچت والی فصلیں اور مٹی میں نمی کے تحفظ جیسی ٹیکنالوجیز کو تیزی سے اپنانا چاہیے۔ زیر زمین پانی کے استحصال کو روکنے کے لیے پالیسی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔