کانگریس لیڈر مکیش ملہوترا کو سپریم کورٹ سے بڑی خوشخبری ملی ہے۔ وہ مدھیہ پردیش کے وجئے پور سے رکن اسمبلی برقرار رہیں گے۔ عدالت عظمیٰ نے مکیش ملہوترا کی اسمبلی رکنیت کو برقرار رکھتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم کو خارج کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ضمنی انتخاب میں دوسرے نمبر پر رہے رام نواس راوت کو رکن اسمبلی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد مکیش سپریم کورٹ پہنچے تھے اور ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج پیش کیا تھا۔دراصل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی گوالیر بنچ نے کانگریس رکن اسمبلی مکیش ملہوترا کا انتخاب رد کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس جی ایس اہلوالیہ کی بنچ نے سنایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ امیدوار کے ذریعہ انتخابی حلف نامہ میں اپنے مجرمانہ معاملوں سے متعلق پوری جانکاری نہیں دینا سنگین خامی ہے۔ عدالت نے مانا کہ ووٹرس کو امیدوار کے پس منظر کے بارے میں درست اور مکمل جانکاری ملنا ضروری ہے۔قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر رام نواس راوت نے مکیش ملہوترا کے خلاف انتخابی عرضی داخل کی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے اخذ کیا کہ نامزدگی کے دوران پیش کیے گئے حلف نامہ میں اہم جانکاری چھپائی گئی تھی، جو انتخابی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر کوئی امیدوار قصداً باتوں کو چھپاتا ہے تو یہ انتخابی عمل کی شفافیت کے خلاف ہے۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ انتخاب میں دوسرے مقام پر رہے بی جے پی امیدوار رام نواس راوت کو وجئے پور اسمبلی سیٹ سے منتخب رکن اسمبلی مانا جائے۔ اس حکم کے ساتھ ہی یہ سیٹ بی جے پی کے حصہ میں چلی گئی تھی۔ عدالت کے اس حکم کو مکیش ملہوترا نے سپریم کورٹ میں چیلنج دیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے مکیش کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔