کیا چین 2027 میں تائیوان پر حملہ کرنے والا ہے؟ امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹ جاری

Wait 5 sec.

واشنگٹن (19 مارچ 2026): امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی تازہ رپورٹ سامنے آئی ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آیا چین 2027 میں تائیوان پر حملہ کرے گا یا نہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ چین کی جانب سے اگلے سال تک تائیوان پر حملے کی توقع نہیں ہے۔امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کی 2026 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق انٹیلیجنس ماہرین کا اندازہ ہے کہ چینی قیادت فی الحال 2027 میں تائیوان پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی ان کے پاس تائیوان کے الحاق کیلیے کوئی حتمی وقت مقرر ہے۔واشنگٹن میں 2027 کو ایک غیر سرکاری ڈیڈ لائن سمجھا جاتا رہا ہے کہ اس وقت تک چینی فوج تائیوان پر حملہ کرنے کی بھرپور صلاحیت حاصل کر لے گی لیکن امریکی انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بیجنگ لازمی حملہ کر دے گا۔رپورٹ کے مطابق بیجنگ فوجی کارروائی کا فیصلہ کرنے سے پہلے کئی عوامل پر غور کرے گا جن میں چینی فوج کی تیاری، تائیوان کی سیاست اور اقدامات، اور یہ سوال شامل ہے کہ آیا امریکا تائیوان کی حمایت میں فوجی مداخلت کرے گا یا نہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چینی فوج مسلسل ترقی کر رہی ہے اور اس نے تائیوان کے گرد فوجی مشقوں کا دائرہ اور رفتار بھی بڑھا دی ہے لیکن چینی قیادت کیلیے اب بھی اس میں بہت سے خطرات موجود ہیں۔امریکی انٹیلیجنس کا یہ بھی ماننا ہے کہ چینی قیادت اب بھی اگر ممکن ہو تو طاقت کے استعمال کے بغیر الحاق کو ترجیح دیتی ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ تائیوان پر فوجی حملہ عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ تائیوان دنیا کا سب سے بڑا کمپیوٹر چپ بنانے والا ملک ہے اور عالمی تجارت کا پانچواں حصہ اس کی سمندری حدود سے گزرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر واشنگٹن اس جنگ میں براہ راست شامل نہ بھی ہو تب بھی ٹیکنالوجی کی سپلائی چین متاثر ہونے اور مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے خوف کی وجہ سے عالمی معیشت اور سلامتی کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید برآں امریکا کے ساتھ طویل جنگ کی صورت میں امریکا، چین اور پوری دنیا کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے۔