کابل(18 مارچ 2026): افغانستان میں طالبان حکومت کی پالیسیوں اور مبینہ انتہا پسندی کے خلاف ایک نئے سیاسی و عسکری محاذ ‘نیشنل موبلائزیشن فرنٹ’ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے اس فرنٹ کی بنیاد رکھی ہے جسے طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی کا ردِعمل قرار دیا جا رہا ہے۔نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان عوام اب طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کے علاوہ اپنے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں دیکھتے۔فرنٹ کے مطابق افغانستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس وقت سنگین سیاسی، معاشی، ثقافتی اور سماجی مسائل کا شکار ہے جس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے۔بیان میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ "اگر سابق سوویت یونین کے خلاف جہاد فرض تھا، تو آج طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت اس سے بھی زیادہ بڑی ضرورت بن چکی ہے”۔ فرنٹ نے افغان طالبان کو غاصب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے نمائندے نہیں بلکہ انہوں نے ملک پر جبراً قبضہ کر رکھا ہے۔نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے طالبان کو "تاریکی اور جہالت کا گروہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رجیم مکالمے اور سمجھ بوجھ پر یقین نہیں رکھتی۔ بیان کے آخر میں عزم ظاہر کیا گیا کہ افغان سرزمین کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے ملک کو اس صورتحال سے نکالنے اور دہشت گرد گروہوں کے چنگل سے بچانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔