اعلیٰ حکام کا قتل ایران کے لیے دھچکے کا باعث نہیں بنے گا، عباس عراقچی

Wait 5 sec.

تہران: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی چیف علی لاریجانی سمیت اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کے قتل سے ایرانی حکومت کو دھچکا نہیں لگا۔عرب میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ اعلیٰ حکام کا قتل ایران کی حکومت کے لیے کسی دھچکے کا سبب نہیں بنے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم نہیں کہ امریکیوں اور اسرائیلیوں نے اب تک یہ بات کیوں نہیں سمجھی کہ ایران ایک مضبوط سیاسی ڈھانچے کا حامل ہے، جس میں مستحکم سیاسی، معاشی اور سماجی ادارے موجود ہیں۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ کسی ایک فرد کی موجودگی یا عدم موجودگی اس ڈھانچے کو متاثر نہیں کرتی، امریکا اور اسرائیل نے ہمارے متعلق غلط اندازے لگائے۔انہوں نے مزید کہا کہ یقیناً افراد بااثر ہوتے ہیں اور ہر شخص اپنا کردار ادا کرتا ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ ایران کا سیاسی نظام ایک نہایت مضبوط ڈھانچہ ہے۔ایرانی میزائلوں نے اسرائیلی شہر بیتِ شیمش میں تباہی مچادییاد رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو شہید کر دیا تھا۔علی لاریجانی کی عمر 67 برس تھی اور وہ انقلابِ ایران کے بعد ابھرنے والی اہم سیاسی شخصیات میں شامل تھے۔