تل ابیب : اسرائیلی حکومت نے صہیونی فوج کو ایرانی سیاسی رہنماؤں کےقتل کی کھلی چھوٹ دے دی ، رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کیلئے کسی منظوری کی ضرورت نہیں۔تفصیلات کے مطابق اسرائیل نے مہذب دنیا کی بنادیں ہلا دیں، نیتن یاہو نے جنگ میں سیاسی رہنماؤں اور قیادت کی ٹارگٹ کلنگ کا نیا رواج متعارف کرا دیا۔الجریزہ ٹی وی نےاسرائیل اقدام کو مہذب دنیا کے لیے ٹیسٹ کیس کے طور پر پیش کر دیا۔سیاسی تجزیہ کار مروان بشارا نے کہا اخلاقی گراوٹ اور پستی کی انتہا ہوگئی۔ اسرائیل جنگ کو’’قتل کی صنعت’’میں بدل رہا ہے، جنگ میں اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کرنا معمول کی بات نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل دہشت گردی کر رہاہے، جنگوں میں منتخب سیاسی لیڈروں کی ٹارگٹ کلنگ نہیں کی جاتی ، اسرائیل کی جانب سے رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ جنگ کا نیا رواج ہے۔الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ نیتن یاہو نے صیہونی فوج کو کہہ رکھا ہے کہ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کیلئےکسی منظوری کی ضرورت نہیں۔اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج جب اورجہاں چاہے سیاسی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کرسکتی ہے، واضح انٹیلی جنس معلومات ہوں توسیاسی عہدیداروں کونشانہ بناسکتے ہیں۔ایرانی رہنماؤں کے قتل پر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ایرانی نظام شخصیات کی بجائےاداروں کےذریعے چلتا ہے، کسی کے قتل سے ایران کےنظام کو کوئی دھچکا نہیں لگتا۔