ایل پی جی بحران سے سانگانیر کی 1000 فیکٹریاں متاثر، مزدوروں میں کورونا کی خوفناک یاد تازہ

Wait 5 sec.

مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے ملک گیر سطح پر ایل پی جی کا جو بحران پیدا ہوا ہے اس کا بڑا اثرگلابی شہر کہے جانے والے راجستھان کی راجدھانی جے پور میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ یہاں کے سانگانیر صنعتی علاقے میں چل رہی 1,000 سے زیادہ ٹیکسٹائل پرنٹنگ فیکٹریوں میں تقریباً 90 فیصد کمپنیاں فی الحال کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قلت کی وجہ سے بند ہوگئی ہیں، مینوفیکچرنگ مکمل طور پر ٹھپ ہے۔ اس سے کاروباریوں کو روزانہ لاکھوں روپئے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ مزدور بے حال بیٹھے ہیں۔ کورونا وائرس وبا کے بعد اب ایک بار پھر مزدوروں کو نقل مکانی کی کا سامنا ہے۔ایل پی جی بحران کے باعث ’فوڈ ڈیلیوری ورکرس‘ کی کمائی ٹھپ! لاکھوں خاندان فاقہ کشی پر مجبورٹیکسٹائل پرنٹنگ کی یہ 1,000 سے زیادہ فیکٹریاں جے پور کے سانگانیر علاقے میں کام کرتی ہیں جو وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کے انتخابی حلقے میں آتا ہے۔ کاروباری اور مزدور اب وزیراعلیٰ بھجن لال شرما سے فریاد کر رہے ہیں کہ انہیں کمرشل سلنڈر فراہم کیا جائے۔ فیکٹری آپریٹروں نے مزدوروں کو دو دنوں میں حالات معمول پر نہیں آنے کی صورت میں اپنے گھروں کو واپس جانے کا فرمان سنادیا ہے۔ اس آرڈر کے بعد مزدوروں میں زبردست مایوسی ہے۔ ان پر دوہری مار کا اندیشہ ہے۔ انہیں کچھ دنوں کے لیے بے روزگار ہونا پڑے گا تو وہیں دوسری طرف گھر آنے جانے پر ہزاروں روپئے ائگ سے خرچ کرنے پڑیں گے۔ ایل پی جی بحران کی وجہ سے یہاں روزانہ تقریباً 12 سے 15 لاکھ میٹر کپڑوں کی چھپائی کا کام نہیں ہوپا رہا ہے۔مغربی ایشیا کی جنگ: اترپردیش میں ایل پی جی بحران، ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند ہونے کے دہانے پرجے پور کے سانگانیر انڈسٹریل ایریا میں ٹیکسٹائل پرنٹنگ کی ایک ہزار سے زیادہ چھوٹی بڑی فیکٹریاں ہیں۔ یہ سبھی تمام فیکٹریاں مکمل طور پر کمرشل ایل پی جی پر انحصار کرتی ہیں۔ درحقیقت پرنٹنگ کے بعد کپڑوں کو خشک کرنے والا ڈرائر یا تو ایل پی جی سے چلتا ہے یا پھر الیکٹرک بوائلر سے۔ الیکٹرک بوائلر 10 فیصد فیکٹریوں میں بھی نہیں لگا ہے۔ چند ایک کو چھوڑ کر تقریباً تمام پرنٹنگ فیکٹریوں کے ڈرائر ایل پی جی پر چلتے ہیں۔ ہر فیکٹری کو روزآنہ 45 کلو ایل پی جی والے 10 سے 20 کمرشل گیس سلنڈر کی ضـرورت ہوتی ہے۔ کمپڑوں کو خشک کرنے کے ساتھ ہی پرنٹ شدہ کپڑوں کے رنگ کو پکا کرنے اور انہیں کٹنگ کے لیے تیار کرنے کی مشینیں بھی ایل پی جی سے ہی چلتی ہیں۔یہاں کام کرنے والی کچھ فیکٹریوں کے پاس تین دن کا اسٹاک تھا تو کسی کے چار دن کا۔ ایل پی جی بحران شروع ہونے کے بعد کوئی فیکٹری 10 دنوں سے بند پڑی ہے تو کوئی 12 اور 15 دنوں سے۔ فیکٹری کے بند ہونے سے یہاں کام کرنے والے مزدور اور دوسرے ملازمین بے روزگار ہوگئے ہیں۔ فیکٹری آپریٹروں نے مزدوروں کو بتادیا ہے کہ اگر 2 دن میں گیس سپلائی کے حالات معمول پر نہیں آئے تو وہ ان کا خرچ نہیں اٹھاپائیں گے اور انہیں اپنے گھر واپس جانا ہوگا۔ فیکٹری مالکان کے اس فررمان سے مزدور گھبرائے ہوئے ہیں۔ زیادہ تر مزدور بنگال اور بہار سے آکر یہاں کام کرتے ہیں۔ ان کے سامنے اب ایک بار پھر گھر واپسی کی نوبت آگئی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے مزدوروں نے اپنا سامان سمیٹنا شروع کردیا ہے۔ ٹرین اور بسوں میں ٹکٹ کی تلاش کی جارہی ہے۔