نوئیڈا میں سافٹ ویئر انجینئر یوراج مہتا کی المناک موت کے معاملے میں ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نظامی لاپروائی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو یوراج کی جان بچائی جا سکتی تھی، لیکن ذمہ دار افسران کی سستی اور تال میل کی کمی نے ایک قیمتی جان لے لی۔ عدالت نے اس معاملے میں تمام متعلقہ اداروں سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت کی تاریخ بھی مقرر کر دی ہے۔عدالت نے خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ حادثے کے وقت سیکٹر 150 میں نہ تو مناسب تعداد میں افسران موجود تھے اور نہ ہی جو اہلکار وہاں پہنچے وہ مؤثر انداز میں راحت اور بچاؤ کے کام انجام دے سکے۔ ہائی کورٹ نے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں یوراج مہتا کو وقت پر مدد فراہم نہیں کی جا سکی، جبکہ وہ کافی دیر تک مدد کے لیے پکارتے رہے۔ اس دوران بچاؤ میں تاخیر نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔اس معاملے میں این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی کارکردگی بھی سوالوں کے گھیرے میں آ گئی ہے۔ عدالت نے جاننا چاہا کہ ان اداروں نے کس حد تک اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور آیا ان کی کارروائی بروقت اور مؤثر تھی یا نہیں۔ ساتھ ہی نوئیڈا اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ کے کام کرنے کے طریقے پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی سطحوں پر سنگین چوک ہوئی، جس کے نتیجے میں نہ صرف بچاؤ میں تاخیر ہوئی بلکہ مجموعی ردعمل بھی غیر منظم رہا۔نوئیڈا انجینئر موت معاملہ: الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بلڈر ابھے کمار کی فوری رہائی کا دیا حکمیوراج مہتا کے اہل خانہ اب بھی انصاف کے منتظر ہیں اور انہیں امید ہے کہ عدالت کی سختی کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں جوابدہی طے کرنا ناگزیر ہے اور جو بھی افسر لاپروائی کا مرتکب پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔یوراج مہتا موت معاملہ: ایس آئی ٹی نے مانگے مزید جواب، 500 سے زائد صفحات کی رپورٹ تیار، سخت کارروائی کے اشارےقابل ذکر ہے کہ یوراج مہتا ایک جونیئر انجینئر تھے اور کافی عرصے سے پروجیکٹ انجینئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ دو ماہ قبل جنوری میں گریٹر نوئیڈا کے سیکٹر 150 میں ایک بلڈر کے پلاٹ میں بھرے پانی میں گرنے کے بعد ان کی موت ہو گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق وہ کئی گھنٹوں تک مدد کے لیے آواز دیتے رہے، مگر بروقت امداد نہ مل سکی۔ بعد میں ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی، تاہم اب عدالت کی مداخلت کے بعد اس واقعے کی پرتیں کھل رہی ہیں اور کئی چونکانے والے حقائق سامنے آ رہے ہیں۔