امریکا نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلیے اتحادیوں سے مزید مدد مانگ لی

Wait 5 sec.

واشنگٹن: امریکا نے اتحادیوں سے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے مدد میں اضافہ کرنے پر زور دیا ہے۔ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ تمام مغربی ممالک متفق ہیں کہ ایران کو ایٹمی قوت نہیں بننا چاہیے تاہم توانائی کی عالمی سپلائی بحال کرنے کےلیے اتحادی اپنا کردار ادا کریں آبنائے ہرمز کے معاملے میں برطانیہ کو زیادہ تیزی سے قدم اٹھانا چاہیے تھا۔آسان ٹاسک نہیں لیکن آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے کام کر رہے ہیں، کیئر اسٹارمر کا اعلانان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا دورہ چین منسوخ نہیں ہوا اس میں تاخیر ہو سکتی ہے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث دورہ چین میں کچھ تاخیرہوسکتی ہے۔ایرانی آئل ٹینکرزامریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی آئل ٹینکروں کو عالمی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ امریکا ایرانی آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے تاکہ عالمی رسد کو برقرار رکھا جا سکے۔CNBC براڈکاسٹر سے بات کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا کہ ایرانی جہاز پہلے ہی باہر نکل رہے ہیں اور ہم نے اسے باقی دنیا کو سپلائی کرنے دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب مزید جہاز آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں جن میں بھارت اور چین کے بحری جہاز بھی شامل ہیں اب جہازوں کی ٹریفک بڑھنا شروع ہونا چاہیے۔بیسنٹ نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد ایران کی بحریہ اور اس کی سرحدوں سے باہر پاور پروجیکٹ کرنے کی صلاحیت سمیت اس کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا تھا۔برطانیہبرطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثر لوگوں کی مدد کے لیے 53 ملین پاؤنڈ کے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا جنگ کی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھی ہیں اور مزید بڑھ رہی ہیں، ہم مشرق وسطیٰ میں جنگ کو مزید نہیں پھیلنے دیں گے، تین ہفتے کے بعد 3 ماہ کے لیے برطانیہ میں تیل کی قیمتیں فکس کر دیں گے۔ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا کوئی آسان ٹاسک نہیں، لیکن وہ ایک قابل عمل منصوبے پر سمندری آمد و رفت کی بحالی کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں لیکن یہ نیٹو مشن نہیں ہوگا، مسئلے کے تیز حل کے لیے اقدامات کریں گے، جنگ کے بعد ہمیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہوگی۔