آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں تباہ کردیں، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں تباہ کردیں، انہوں نے اتحادی ممالک سے ایک بار پھر مدد کی اپیل کردی۔واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے کھلوانے کے لیے اتحادی ممالک سے ایک بار پھر مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ممالک کے تیل بردار جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں انہیں آگے آکر اس جنگ میں تعاون کرنا چاہیے۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو ڈبو دیا گیا ہے اور اگر ایران نے دوبارہ سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو یہ اس کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ طاقتور امریکی فوج نے ایرانی رجیم کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور جنگ کا تیسرا ہفتہ جاری ہے۔ ان کے مطابق ایران کے دفاعی نظام کو تیزی سے تباہ کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ایران کے حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آچکی ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایرانی ڈرون اور میزائل بنانے کی صلاحیت کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ 100 سے زائد ایرانی جہاز تباہ کیے جاچکے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت تقریباً ختم کر دی گئی ہے اور کارروائیوں میں زیادہ تر فوجی اور تجارتی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔صدر ٹرمپ کے مطابق خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرے پر آئل پائپ لائنز کے علاوہ بیشتر تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں اور ایران کو دوبارہ اپنی عسکری و صنعتی صلاحیت بحال کرنے میں کم از کم دس سال لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایران مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے امریکی فوج پر حملوں کی جعلی ویڈیوز تیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن امریکا اس کے لیے تیار نہیں۔مزید پڑھیں : ایران میں اسرائیلی و امریکی حملوں میں اموات کی تعداد 14 سو سے بڑھ گئیاس موقع پر انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے انہوں نے نائن الیون حملوں سے پہلے خبردار کیا تھا، اگر اس وقت ان کی بات سن لی جاتی تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ایران کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل تباہی سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بقول اگر امریکا چاہتا تو تہران کے بجلی گھروں کو ایک گھنٹے میں تباہ کیا جا سکتا تھا، تاہم ایسا نہ کرنے کا مقصد ایرانی عوام کو مزید مشکلات سے بچانا ہے کیونکہ ان تنصیبات کی دوبارہ تعمیر میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی