دوحہ(19 مارچ 2026): قطر نے ایران کے جنوبی پارس فیلڈ سے منسلک گیس کی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی کشیدگی میں ایک ‘خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قدم’ قرار دیا ہے۔قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ جنوبی پارس فیلڈ کی تنصیبات کو نشانہ بنانا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘موجودہ فوجی کشیدگی کے دوران قطر سے منسلک ایران کے جنوبی پارس فیلڈ کی تنصیبات کو اسرائیلی نشانہ بنانا ایک خطرناک اقدام ہے۔ماجد انصاری نے خبردار کیا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے ‘عالمی توانائی کی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے کے عوام اور ماحول کے لیے بھی خطرہ ہیں۔’ انہوں نے قطر کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں۔ایران کی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملہ، گیس کی پیداوار معطل، ایران کے جوابی حملےانہوں نے مزید کہا ‘ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور اس انداز میں کام کریں جس سے خطے کی سلامتی اور استحکام برقرار رہے۔’یہ بیانات ایرانی میڈیا کی ان رپورٹس کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں بتایا گیا تھا کہ بدھ کو ایران کے جنوبی شہر عسلویہ میں جنوبی پارس فیلڈ کے گیس اسٹوریج ٹینکوں پر امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ فضائی حملہ کیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں دو ریفائنریوں میں پیداوار رک گئی ہے جن کی مجموعی گنجائش روزانہ تقریباً 100 ملین کیوبک میٹر ہے۔امریکا اور اسرائیل 28 فروری سے ایران کے خلاف مشترکہ جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں اب تک سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت تقریباً 1,300 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ایران نے جواب میں اسرائیل، اردن، عراق اور ان خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، جس سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں اور ہوائی سفر میں بھی خلل پڑا ہے۔