ایندھن کے ڈپوؤں پر اسرائیلی بمباری عالمی قوانین کی سنگین کھلی خلاف ورزی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

Wait 5 sec.

تہران(16 مارچ 2026): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایندھن کے ذخائر پر اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایندھن کے ڈپوؤں کو نشانہ بنانا نہ صرف جارحیت ہے بلکہ یہ ماحولیاتی تباہی اور ایکو سائیڈ کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فضائی اور زمینی آلودگی سے مقامی آبادی کی صحت کو طویل مدتی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ مٹی اور زیر زمین پانی کی آلودگی کے اثرات آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کریں گے اور اس ماحولیاتی نقصان کے اثرات دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔انہوں نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے ان اقدامات کو جنگی جرائم تسلیم کیا جائے اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔واضح رہے کہ صوبہ البرز میں تیل کی ایک تنصیب پر ہونے والے حملے میں 6 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، ہلال احمر ایران نے متنبہ کیا ہے کہ جلتے ہوئے ڈپوؤں سے نکلنے والا زہریلا دھواں بارش کی صورت میں ‘تیزابی بارش’ (Acid Rain) کا سبب بن سکتا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔