برطانوی وزیراعظم اور آسٹریلیا نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے امریکی صدر کی مدد کی اپیل مسترد کردی

Wait 5 sec.

لندن(16 مارچ 2026): برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی گئی فوجی تعاون کی اپیل مسترد کر دی ہے۔برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم اسٹارمر نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے امریکی صدر کو آگاہ کر دیا ہے کہ برطانیہ فی الحال اس مشن کے لیے تیار نہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔دوسری جانب، برطانوی وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے متبادل کے طور پر کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ فی الحال جنگی بحری جہاز بھیجنے کے حق میں نہیں ہے، تاہم وزرا اس تجویز پر غور کر رہے ہیں کہ سمندر میں موجود بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے ڈرونز بھیجے جائیں۔برطانیہ کے بعد اب آسٹریلیا نے بھی آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔آسٹریلوی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ آسٹریلیا آبنائے ہرمز میں اپنے جنگی بحری جہاز نہیں بھیجے گا۔ انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ملک میں ایندھن کی سپلائی فی الحال برقرار ہے اور جو بحری جہاز آسٹریلیا کے لیے روانہ ہو چکے تھے، وہ اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق پہنچ رہے ہیں۔کیتھرین کنگ نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کے منفی اثرات صرف آسٹریلیا تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورے ایشیا پیسیفک خطے کی معیشت اور سیکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔