راجیہ سبھا کی 11 نشستوں کے لیے آج ووٹنگ، شام تک نتائج متوقع

Wait 5 sec.

راجیہ سبھا کی 11 نشستوں کے لیے آج بہار، اوڈیشہ اور ہریانہ میں ووٹنگ ہوگی اور امکان ہے کہ اسی شام نتائج بھی سامنے آ جائیں گے۔ اس بار ملک بھر میں راجیہ سبھا کی 37 نشستوں کے لیے انتخابی عمل جاری ہے، جن میں سے 26 امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ باقی 11 نشستوں پر مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں کی نظر خاص طور پر انہی ریاستوں پر مرکوز ہے جہاں ووٹنگ کے بعد نتائج کا دارومدار کراس ووٹنگ اور سیاسی حکمت عملی پر ہوگا۔بہار میں راجیہ سبھا کی پانچ نشستوں کے لیے مقابلہ دلچسپ رخ اختیار کر چکا ہے۔ حکمراں اتحاد کے چار امیدواروں کی جیت تقریباً یقینی مانی جا رہی ہے، جن میں نتیش کمار، رام ناتھ ٹھاکر، نتن نوین اور شیوم کمار شامل ہیں۔ اصل مقابلہ پانچویں نشست پر ہے جہاں این ڈی اے کے امیدوار اوپیندر کشواہا اور مہاگٹھ بندھن کی حمایت یافتہ اے ڈی سنگھ آمنے سامنے ہیں۔بہار اسمبلی میں مہاگٹھ بندھن کے پاس 35 ارکان ہیں جبکہ جیت کے لیے 41 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں مجلس اتحاد المسلمین کے پانچ اور بہوجن سماج پارٹی کے ایک ووٹ کی امید کے ساتھ اپوزیشن اپنی پوزیشن مضبوط بتا رہی ہے۔ دوسری جانب این ڈی اے کو امید ہے کہ اپوزیشن کے کچھ ارکان کراس ووٹنگ کر سکتے ہیں، جس سے نتیجہ متاثر ہو سکتا ہے۔اوڈیشہ میں 4 نشستوں کے لیے ہونے والا مقابلہ بھی سیاسی لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور بیجو جنتا دل دو دو نشستیں حاصل کر سکتے ہیں۔ اوڈیشہ اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس 79 ارکان ہیں اور تین آزاد ارکان کی حمایت بھی اسے حاصل ہے، جس کی بنیاد پر دو نشستوں پر اس کی جیت تقریباً یقینی مانی جا رہی ہے۔ تیسری نشست کے لیے اسے مزید ووٹوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف بیجو جنتا دل کے پاس 48 ارکان ہیں اور اگر کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت ملتی ہے تو وہ بھی دو نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔ چوتھی نشست کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حمایت یافتہ دلیپ رے اور بیجو جنتا دل کے امیدوار کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ہریانہ میں بھی سیاسی صورت حال دلچسپ بن گئی ہے۔ ریاستی اسمبلی میں کل 90 ارکان ہیں جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس 48 ارکان ہیں۔ انڈین نیشنل لوک دل اور کچھ آزاد ارکان کی حمایت کے ساتھ حکمراں جماعت کے پاس اکثریت موجود ہے اور اس کے امیدوار سنجے بھاٹیا کی جیت تقریباً یقینی مانی جا رہی ہے۔ اس کے بعد بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس کچھ ووٹ باقی رہ جائیں گے۔ کانگریس کے پاس 37 ارکان ہیں اور اس کے امیدوار کرم ویر بودھ کی کامیابی بھی آسان سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم آزاد امیدوار ستیش ناندل کے میدان میں آنے سے مقابلہ مزید دلچسپ ہوگیا ہے کیونکہ انہیں کامیابی کے لیے اضافی ووٹ درکار ہوں گے، جو کراس ووٹنگ کے بغیر ممکن نہیں سمجھے جا رہے۔بہار، اوڈیشہ اور ہریانہ میں ہونے والی ووٹنگ کے بعد شام تک نتائج واضح ہو جائیں گے۔ مختلف جماعتوں کی امیدیں کراس ووٹنگ پر ٹکی ہوئی ہیں، اس لیے بعض نشستوں پر غیر متوقع نتائج سامنے آنے کے امکانات کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھا جا رہا۔