تہران (17 مارچ 2026): ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران کو یہ توقع نہیں تھی کہ اس کے جنوبی ہمسایہ ممالک کی سرزمین کو اسلامی جمہوریہ کے خلاف جارحیت کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔العربی الجدید کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قالیباف نے ایران کے پڑوسی ممالک کے ردِعمل سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔ انھوں نے کہا ’’رسمی باتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے، ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ ہمارے جنوبی ہمسایوں کی زمین ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہوگی، جس نے ہمیں اپنے دفاع پر مجبور کیا۔‘‘انھوں نے خطے میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہی ’’اڈے جو امریکا کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے دیے گئے تھے‘‘ آخرکار انہی ممالک کے ساتھ دھوکا کر گئے اور یہی اڈے ’’عدم تحفظ کا ذریعہ‘‘ بن گئے۔ایران انٹرنیشنل کے مطابق اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تحفظ کا قیام خطے کے ممالک کے ذریعے ہونا چاہیے اور امریکی افواج کو خطے سے نکلنا ضروری ہے، مشرق وسطیٰ کا چہرہ اور ترتیب بدلے گی، لیکن یہ امریکی منصوبوں کے مطابق نہیں ہوگا، ہم یعنی خطے کے اسلامی ممالک، اقتصادی اور حفاظتی دونوں جہتوں میں علاقائی ترتیب اور سلامتی قائم کریں گے۔خطے کے مستقبل کے حوالے سے قالیباف نے کہا کہ ایران ’’جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں جائے گا۔‘‘ انھوں نے زور دیا کہ اگرچہ تہران اپنے دفاع پر مجبور ہے، لیکن علاقائی استحکام مقامی ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر خود سنبھالنا چاہیے۔ اسپیکر نے پڑوسی ممالک کے ساتھ مستقل سیکیورٹی معاہدوں کے لیے آمادگی ظاہر کی تاکہ دونوں جانب کے لیے ضمانت فراہم کی جا سکے اور علاقائی سرمایہ کاری کا تحفظ ہو سکے۔ تاہم انھوں نے جنگ بندی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ’’ہم اس وقت تک جنگ بندی قبول نہیں کریں گے جب تک دشمن اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے۔‘‘انھوں نے کہا کہ جنگ بندی اسی صورت میں معقول ہوگی جب یہ دشمن کو صرف یہ موقع نہ دے کہ وہ ’’اپنے مسائل حل کرے، جیسے ریڈار کی تباہی یا دفاعی میزائلوں کی کمی، اور پھر دوبارہ حملے شروع کر دے۔ تہران صرف اسی وقت جنگ بندی پر غور کرے گا جب دشمن حقیقی طور پر پشیمانی ظاہر کرے اور خطے میں استحکام یقینی بنایا جائے۔‘‘قالیباف نے مزید بتایا کہ ایران نے خود کو ایک طویل جنگ کے لیے تیار کر لیا ہے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مقامی ٹیکنالوجی میزائلوں اور ڈرونز کی تیز اور کم لاگت پیداوار کو ممکن بناتی ہے، جو دشمن کے دفاعی نظام تیار کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا ایران نے اپنے میزائل لانچرز کے ڈیزائن اور نظام کو تبدیل کر دیا ہے اور اب دشمن انھیں نشانہ نہیں بنا سکتا، حریفوں کا واحد حاصل شدہ مقصد سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو قتل کرنا تھا، لیکن اب ایک جوان خامنہ ای نے ان کی جگہ لے لی ہے۔