پارلیمنٹ میں کانگریس ارکان کے اٹھائے کسانوں کے مسائل، بیمہ اسکیم اور احتجاجی پالیسیوں پر سوالات

Wait 5 sec.

نئی دہلی: لوک سبھا اور راجیہ سبھا، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آج کارروائی کی پرامن شروعات ہوئی۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات جاری ہے، جبکہ راجیہ سبھا میں فہرست شدہ امور نمٹانے کے بعد وقفہ صفر چل رہی ہے۔ یہ بجٹ اجلاس کے دوسرے حصے کے دوسرے ہفتے کا دوسرا دن ہے۔کارروائی کے دوران کانگریس کے ارکان نے کسانوں کے مسائل، بیمہ اسکیموں میں تاخیر، مالی بے ضابطگیوں اور احتجاج کے حق جیسے اہم موضوعات پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ مہاراشٹر کے کسانوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گووال پاڈوی نے سوال اٹھایا کہ نندوربار جیسے اضلاع میں فصلوں کے نقصان اور مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے کسان مشکلات میں ہیں، ایسے میں کیا حکومت وہاں پروسیسنگ یونٹس اور اسٹوریج سہولیات قائم کر رہی ہے تاکہ کسانوں کو یقینی بازار اور بہتر قیمت فراہم ہو سکے۔وزیر کی جانب سے جواب دیا گیا کہ اگر بیمہ کمپنیوں یا ریاستی حکومت کی طرف سے کلیم کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے تو ان پر 12 فیصد جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ اس پر گووال پاڈوی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ یہ جرمانہ متاثرہ کسانوں کو دینے کے بجائے ریاستی حکومت کے کھاتوں میں کیوں جمع کیا جاتا ہے اور مطالبہ کیا کہ یہ رقم براہ راست کسانوں کو دی جانی چاہیے۔اسی دوران راجستھان میں ’پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا‘ کے تحت فراڈ کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا گیا۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مراری لال مینا نے کہا کہ ایک ضلع میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگی سامنے آئی ہے جس میں بینکوں اور بیمہ کمپنیوں کی ملی بھگت کا انکشاف ہوا ہے، اور اس معاملے کو خود ریاست کے وزیر زراعت نے بے نقاب کیا۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ اس معاملے میں کیا کارروائی کی گئی ہے، آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ملک کے دیگر حصوں میں اس طرح کی بے ضابطگیاں کہاں کہاں سامنے آئی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے گزشتہ تین برسوں میں کسانوں کو دی گئی کلیم رقم اور جمع شدہ پریمیم کی تفصیلات بھی طلب کیں۔راجیہ سبھا میں کانگریس کی رکن پارلیمنٹ رجنی پاٹل نے پرامن احتجاج کے حق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ عرصے میں نوجوانوں، کسانوں، خواتین کھلاڑیوں اور قبائلی برادریوں نے اپنے مسائل پر آواز اٹھائی، لیکن بعض مواقع پر ان احتجاجات کو سختی سے دبایا گیا اور مظاہرین کو ملک مخالف قرار دے کر کارروائی کی گئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرامن احتجاج کے تئیں نرم پالیسی اپنائی جائے، پولیس طاقت کا استعمال آخری چارہ کار ہو اور تمام فریقین کے ساتھ بامعنی اور ادارہ جاتی مکالمہ قائم کیا جائے۔پارلیمنٹ میں کانگریس ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالات نے کسانوں کی حالت زار، حکومتی اسکیموں کی شفافیت اور جمہوری اقدار کے تحفظ جیسے نکات کو ایک بار پھر مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔