واشنگٹن : امریکی خبر رساں ادارے ‘ایگزیوس’ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے وائٹ ہاؤس کے ایلچی کو جنگ ختم کرنے کے پیغامات بھیجے۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دو ہفتے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست سفارتی رابطے دوبارہ فعال ہونے کا انکشاف ہوا۔امریکی خبر رساں ادارے ‘ایگزیوس’ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہِ راست رابطہ ہوا ہے۔رپورٹ میں کہنا تھا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ نے وائٹ ہاؤس کے ایلچی کو جنگ کے خاتمے سے متعلق اہم پیغامات بھیجے ہیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا براہِ راست رابطہ ہے جو دوبارہ فعال ہوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران محض ‘وقتی جنگ بندی’ میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ وہ ایک ایسے مستقل امن معاہدے کا خواہاں ہے جس کے لیے ٹھوس ضمانتیں فراہم کی جائیں۔ایگزیوس کا دعویٰ ہے کہ عباس عراقچی اس وقت علی لاریجانی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، جو سابق سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد اس وقت غیر رسمی طور پر ملکی قیادت کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔امریکی ذرائع کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان پیغامات کا اصل مواد کیا ہے یا کتنی تعداد میں پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔تاہم، امریکی اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عباس عراقچی پہلے بھی کلیدی فیصلہ ساز نہیں تھے اور اب بھی ان کے پاس مکمل اختیارات کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں۔