واشنگٹن (22 مارچ 2026): تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ایک غیر ملکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور غور کیا جا رہا ہے کہ جنگ کے اگلے مرحلے اور ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کس طرح ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اس معاملے پر ابتدائی بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔ٹرمپ کے داماد اور ان کے مشیر جیرڈ کوشنر اور مشرقِ وسطی کے لیے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف ممکنہ سفارت کاری میں شامل ہیں۔ایران پر حملے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت ختم ہو چکی ہے، تاہم مصر، قطر اور برطانیہ اب بھی دونوں ملکوں میں پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ویب سائٹ کے مطابق کسی بھی معاہدے کے تحت جنگ ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران کے بہت زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا معاملہ حل کرنا، اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں کے بارے میں طویل مدتی معاہدہ قائم کرنا شامل ہونا ضروری ہوگا۔امریکا، ایران سے یورینیم افزودگی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لیے میزائل پروگرام کا خاتمہ بھی چاہتا ہے، جبکہ ایران جنگی نقصانات کا ہرجانہ طلب کر رہا ہے۔ایران جنگ سے متعلق تمام خبریںایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے منجمد اثاثے اسے واپس کر دے تو، ایران کا ہرجانے کا مطالبہ پورا ہو سکتا ہے۔’’آپ ہمارے بھائی، آپ سے کوئی تنازع نہیں‘‘، ایرانی صدر کا اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے نام پیغامِ عید