نئی دہلی: اسمبلی انتخابات اور ضمنی انتخابات کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے تمام پولنگ مراکز کے لیے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے ووٹروں کی سہولت کو اولین ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ہر ووٹر کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جانا ضروری ہے۔کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق ملک بھر میں قائم کیے جانے والے 2,18,807 پولنگ بوتھ پر کم از کم بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان سہولیات میں پینے کے صاف پانی، سایہ دار انتظار گاہ، صاف ستھرے بیت الخلا، مناسب روشنی اور معذور افراد کے لیے ریمپ جیسے ضروری انتظامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہر پولنگ مرکز پر واضح اشارتی بورڈ اور معیاری ووٹنگ کمرے بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ ووٹروں کو کسی قسم کی الجھن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔الیکشن کمیشن نے ووٹروں کی سہولت کے لیے مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ قطار میں کھڑے افراد کے لیے وقفے وقفے سے بیٹھنے کا انتظام کیا جائے، تاکہ بزرگ شہریوں اور دیگر ووٹروں کو انتظار کے دوران راحت مل سکے۔ اس کے علاوہ ہر پولنگ بوتھ پر چار معیاری ’ووٹر سہولت پوسٹر‘ بھی آویزاں کیے جائیں گے، جن میں ووٹنگ سے متعلق ضروری معلومات، امیدواروں کی فہرست، شناختی دستاویزات کی تفصیل اور ضابطہ اخلاق درج ہوگا۔آسام، مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی انتخابات کا اعلان، 4 مئی کو نتائجکمیشن نے ہر پولنگ مرکز پر ووٹر معاونت مراکز قائم کرنے کا بھی حکم دیا ہے، جہاں بوتھ لیول افسران اور دیگر عملہ ووٹروں کی رہنمائی کرے گا۔ یہ مراکز ووٹروں کو ان کا پولنگ بوتھ اور ووٹر لسٹ میں اندراج تلاش کرنے میں مدد فراہم کریں گے، جس کے لیے واضح نشانات بھی لگائے جائیں گے۔پانچ ریاستوں کے انتخابات کی تیاری، الیکشن کمیشن نے 25 لاکھ سے زائد اہلکار تعینات کئےمزید برآں، پولنگ مراکز کے داخلی دروازوں پر موبائل فون جمع کرانے کا انتظام بھی کیا جائے گا، تاکہ ووٹنگ کے عمل کو شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔ ووٹر اپنے بند موبائل فون متعلقہ عملے کے پاس جمع کرا کے ووٹنگ کے بعد واپس حاصل کر سکیں گے۔ الیکشن کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان تمام ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور متعلقہ افسران کو ووٹنگ سے قبل تمام تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ ہر شہری کے لیے ووٹنگ کا عمل آسان، محفوظ اور خوشگوار بنایا جا سکے۔