(20 مارچ 2026): اذان نے سرحد کا فرق مٹا دیا بھارت کے کئی گاؤں کے رہائشی پاکستانی مسجد سے اذان کی آواز پر روزہ افطار کرتے ہیں۔دو ممالک کی سرحدیں ان ملکوں کے عوام میں تفریق پیدا کرتی ہیں۔ مگر پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد کی دیوار کو مذہب اس وقت مٹا دیتا ہے، جب پاکستانی مسجد کی اذان کی آواز پر بھارتی گاؤں کے لوگ اپنا روزہ کھولتے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق سرحدی باڑمیر ضلع کے رامسر کی چاندے کا پار، بنّے کی بستی اور پادریا جیسے گاؤں میں ہر سال رمضان کے مقدس مہینے میں ایک انوکھی روایت زندہ ہو جاتی ہے۔یہاں رہنے والے مسلمان روزہ رکھتے ہیں، لیکن افطار کا وقت طے کرنے کے لیے وہ گھڑی یا موبائل نہیں بلکہ سرحد پار پاکستان کی مسجد سے آنے والی اذان پر بھروسا کرتے ہیں۔جیسے ہی شام کو سورج ڈھلتا ہے اور پاکستان کی مساجد سے اذان کی آواز گونجتی ہے، ویسے ہی ہندوستان کی ڈھانِیوں میں بیٹھے لوگ روزہ کھول لیتے ہیں۔کئی بار ہندوستان کی طرف سے اذان پہلے سنائی دیتی ہے، تو کبھی پاکستان کی طرف سے، لیکن فرق صرف ایک دو منٹ کا ہی ہوتا ہے۔سرحد کے دونوں طرف بسے مسلمان ایک ہی وقت میں نماز ادا کرتے ہیں۔ مدارس اور مساجد میں لگے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کئی کلومیٹر دور تک صاف سنائی دیتی ہے۔خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان کے بنّے کی بستی اور پاکستان کے موسیٰ کی ڈھانی کے درمیان فاصلہ صرف 3 کلومیٹر ہے، جہاں سے اذان کی آواز ایک دوسرے تک آسانی سے پہنچ جاتی ہے۔