نئی دہلی : بھارتی جریدے نے ایران کی جانب سے آبنائےہرمز میں بھارت کو ناکہ بندی سے استثنیٰ دینے کا دعویٰ مضحکہ خیز قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے عالمی سطح پر اثر و رسوخ کے جھوٹے دعوؤں کا ایک اور بڑا پول کھل گیا۔بھارتی جریدے ‘اسکرول ان’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں مودی سرکار اور ‘گودی میڈیا’ کے ان دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بھارتی جہازوں کو ناکہ بندی سے خصوصی استثنیٰ دے دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مودی سرکار نے ملک میں جاری توانائی کے بدترین بحران اور عوامی غصے کو دبانے کے لیے میڈیا کے ذریعے من گھڑت خبریں پھیلائیں۔بھارتی وزیر خارجہ نے خود ہی میڈیا کی ان بے بنیاد خبروں کی تردید کر دی ہے کہ ایران کے ساتھ بھارتی جہازوں کے لیے کوئی جامع بندوبست موجود ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود مودی حکومت بھارت کو توانائی کے شعبے میں خود مختار بنانے میں ناکام رہی ہے، اور عوامی ٹیکس کا پیسہ جنگی جنون اور کرپشن کی نذر کیا جا رہا ہے۔‘اسکرول ان’ کے مطابق مودی نے عالمی دباؤ میں آکر ایران سے تیل کی خریداری اور چابہار بندرگاہ میں شراکت داری عملی طور پر ختم کر دی ہے، جس سے بھارت کا علاقائی اثر و رسوخ محدود ہو چکا ہے۔بھارتی جریدے نے واضح کیا ہے کہ "یہود و ہنود” کے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کے بعد ایران اب بھارت کو ایک غیر جانبدار ملک تسلیم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی جانب سے بھارت کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے کا دعویٰ مضحکہ خیز قرار دیا گیا ہے۔