امریکا نے اپنے شہریوں کو عراق چھوڑنے کی ہدایت کردی

Wait 5 sec.

بغداد: عراق کے شہر بغداد میں موجود امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران سے منسلک مسلح گروہوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔بیان کے مطابق امریکی شہریوں اور مفادات کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ موجود ہے۔امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ عراق اور کردستان ریجن میں ہوٹلز اور ایئر پورٹس ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اسرائیل اور امریکا کیخلاف آپریشن وعدہ صادق چار کی 66 ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ایران جنگ کے 21 ویں روز ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اسرائیل اور امریکا کے خلاف آپریشن وعدہ صادق چار کی 66 ویں لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا نام ’یا زہرہ‘ رکھا گیا ہے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی یاد میں کی گئی جب کہ اس حوالے سے میزائل اور ڈرون فائر کرنے کے مناظر جاری کیے گئے ہیں۔ایران کی جانب سے حملے تل ابیب اور مقبوضہ علاقوں کے اہم اہداف پر کیے گئے ہیں۔ جب کہ پاسداران انقلاب نے اس لہر میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ان حملوں میں قدر، خرمشہر، خیبر شکن، قیام اور ذوالفقار میزائل استعمال کیے گئے ہیں، جو ٹھوس اور مائع ایندھن والے، ملٹی وار ہیڈ کے حامل ہیں جب کہ ڈرون حملے بھی 66 ویں لہر کا حصہ ہیں۔ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریںپاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔