عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کنٹرول کرنے کیلئے امریکا کا ایرانی تیل سے پابندیاں ہٹانے پر غور

Wait 5 sec.

واشنگٹن(20 مارچ 2026): امریکا ایران کے خلاف جاری جنگ کے توانائی کی عالمی منڈی پر اثرات کو کم کرنے کے لیے ایرانی تیل پر عائد بعض پابندیاں ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو کے دوران یہ تجویز پیش کی ہے کہ ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی سے عالمی خریداروں کے لیے تیل کی دستیابی بڑھے گی، جس سے جنگ کی وجہ سے تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اگر اس تجویز پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی میں ایک حیران کن تبدیلی ہوگی۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس وقت سمندر میں موجود تقریباً 14 کروڑ بیرل ایرانی تیل پر سے فروخت کی پابندیاں ہٹانے سے عالمی قیمتوں میں 10 سے 14 دنوں کے لیے کمی لائی جا سکتی ہے۔اس اقدام کا مقصد چین کو تیل کی مارکیٹ قیمت ادا کرنے پر مجبور کرنا اور ان سپلائیز کو بھارت، جاپان اور ملائیشیا جیسے ممالک کی طرف موڑنا ہے جنہیں تیل کی اشد ضرورت ہے۔دوسری جانب ماہرین نے اس ممکنہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندیاں ہٹانے سے حاصل ہونے والا پیسہ ایرانی حکومت کو جنگی کوششوں میں مدد دے سکتا ہے۔جس پر امریکا خود حملے کر رہا ہے۔بی بی سی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے جو بھی ضروری ہوا وہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے حال ہی میں ایرانی پیٹرولیم سیکٹر پر پابندیاں مزید سخت کرنے کا بل منظور کیا ہے، جس کی وجہ سے اس نئی تجویز پر امریکی سیاست میں شدید ردِعمل کا امکان ہے۔