سپریم کورٹ نے برہمن طبقہ کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) کے خلاف داخل عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس اُجول بھوئیاں کی بنچ نے کہا کہ ’’کسی بھی طبقہ کے خلاف نفرتی بیان دینا غلط ہے، لیکن عدالت صرف ایک طبقہ کے بارے میں داخل عرضی پر سماعت نہیں کر سکتی۔‘‘ سپریم کورٹ نے مہالنگم بالاجی نام کے عرضی گزار کے دلائل کو سنتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔STORY | SC turns down plea seeking action against hate speech targeting Brahmin communityThe Supreme Court on Friday refused to entertain a plea which sought recognition of hate speech targeting the Brahmin community as a punishable offence, describing the tendency as… pic.twitter.com/SeWqh7yO6o— Press Trust of India (@PTI_News) March 20, 2026اپنی عرضی کے لیے خود پیش ہوئے بالاجی کا کہنا تھا کہ انہوں نے 9 سال تک تحقیقات کی ہے، جس کے بعد یہ عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ برہمن طبقہ کو سوچ سمجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے غیر ملکی عناصر بھی شامل ہیں۔ اسکول کی نصابی کتابوں میں بھی ایسی باتیں شامل کی جا رہی ہیں جو برہمنوں کی منفی شبیہ بناتی ہے۔ بالاجی نے عرضی میں یہ بھی کہا کہ برہمنوں کو معاشرتی طور پر ’اچھوت‘ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایسا دکھایا جا رہا ہے جیسے ہر معاشرتی برائی کے لیے برہمن ہی قصوروار ہے۔ ان تمام باتوں کا اثر عام برہمنوں پر پڑ رہا ہے۔ برہمنوں کو نظر انداز کرنا اب ایک عام بات بنتی جا رہی ہے۔ حکومت ٹھیک سے یہ تک نہیں بتا سکتی کہ کشمیر سے کتنے پنڈتوں نے ہجرت کی ہے۔ برہمنوں کے قتل عام تک کو بھلا دیا گیا ہے۔ججوں نے کہا کہ ایسی شکایتوں کے لیے عدلیہ مناسب فورم نہیں ہے۔ اس پر عرضی گزار نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے دفتر اور مختلف وزارتوں سے رابطہ کیا، اب سپریم کورٹ ہی ان کا آخری سہارا ہے۔ اس کے بعد جسٹس ناگرتھنا نے عرضی گزار کو مشورہ دیا کہ وہ اسکولوں اور کالجوں میں جا کر بھائی چارہ کو فروغ دیں۔عرضی گزار نے کہا کہ نفرت پھیلانے والے لوگ سپریم کورٹ تک کو ’برہمنوں کی عدالت‘ کہہ کر نشانہ بناتے ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ اس طرح کی نفرت سے متاثر ہوئے بغیر اپنا کام کر رہی ہے اور عرضی گزار کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ جسٹس ناگرتھنا نے کہا کہ ’’اگر آپ ردعمل کا اظہار کریں گے تو یہ دوسرے فریق کی جانب سے جوابی ردعمل کا سبب بنے گا اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ نظر انداز کرنے سے بہت سی باتیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔‘‘علاوہ ازیں ججوں نے عرضی میں لکھے گئے لفظ ’برہمو فوبیا‘ پر بھی بحث کی۔ انہوں نے کہا کہ عرضی گزار نے ایک نیا لفظ تلاش کر لیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ’’عدلیہ کسی مخصوص طبقہ کے بجائے سب کے لیے یکساں نظریہ رکھتی ہے۔ کسی بھی طبقہ کے خلاف ہیٹ اسپیچ نہیں ہونی چاہیے۔ سب کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور سماجی بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘‘