ایران اورامریکہ۔ اسرائیل کے درمیان مشرق وسطح میں چھڑی جنگ کے دوران قطر سے ایل پی جی لے کر آبنائے ہرمز کے راستے روانہ ہوا ہندوستانی جہاز’نندا دیوی‘ منگل کے روز گجرات کے جام نگر کے پاس وادی نار بندرگاہ پر پہنچ گیا۔ افسران نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی جہاز’نندا دیوی‘ 46,000 میٹرک ٹن ایل پی جی لے کر منگل کے روز تقریباً 11.25 بجے گجرات کے وادی نار بندرگاہ پر پہنچا۔ دو دنوں میں ایل پی جی گیس لے کر دو جہاز آبنائے ہرمز کے راستے ہندوستان پہنچے ہیں۔ ایک دن پہلے ہی’ شیوالک‘ نامی جہاز تقریباً 45 سے46 ہزار ٹن ایل پی جی لے کر مندرا بندرگاہ پر پہنچا تھا۔خوشخبری! آبنائے ہرمز پار کر ہندوستان پہنچا ایل پی جی سے بھرا جہاز ’شیوالک‘، اب دوسرے جہاز ’نندا دیوی‘ کا ہے انتظارحساس سمندری راستے سے ایندھن کی نقل و حمل کے بارے میں خدشات کے درمیان جہاز کی محفوظ آمد سے راحت ملی ہے۔ اس سے قبل بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے اسپیشل سکریٹری راجیش کمار سنہا نے بین وزارتی بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز کو عبور کرنے کے بعد آئل ٹینک کامیابی کے ساتھ کھلے سمندر میں داخل ہو گیا تھا۔غور طلب ہے کہ آبنائے ہرمز ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے مسدود ہے۔ ایران کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد یہ دونوں بحری جہاز ہندوستان پہنچے ہیں۔ فروری کے اواخر سے امریکی دھمکیوں کے جواب میں ایران کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور انتباہات کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ایل پی جی سے لدا ہندوستانی جہاز ’نندا دیوی‘ آج پہنچے گا گجرات کے کانڈلا بندرگاہپیر کے روز کانڈلا پورٹ کے حکام نے ہدایت جاری کی تھی کہ ایل پی جی لے جانے والے تمام جہازوں کو ترجیحی بنیاد پر لنگر ڈالنے کی اجازت دی جائے تاکہ کارگو اتارنے میں تیزی لائی جا سکے اور تاخیر کو کم کیا جا سکے۔ شپنگ ایجنٹوں کو بھیجے گئے ایک سرکلر میں دین دیال پورٹ اتھارٹی نے کہا کہ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے بندرگاہوں کو ایل پی جی سے لدے جہازوں ترجیحی بنیاد پر لنگر ڈالنے کا حکم دیا ہے تاکہ ملک بھر میں کھانا پکانے والی گیس کی بلا تعطل سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔شیوالک جہاز قطر سے تقریباً 46,000 ٹن ایل پی جی لے کر اپنا 9 روزہ سفر مکمل کر کے پیر کی شام کو مندرا بندرگاہ پہنچا تھا۔ پورٹ حکام نے پہلے سے ہی دستاویزات اور ڈاکنگ کا بندوبست کر لیا تھا تاکہ بلا تاخیر مال اتارنے کا کام شروع کیا جاسکے۔ حکام نے بتایا کہ یہ دونوں جہاز گھریلو اور صنعتی استعمال کے لیے ایل پی جی کی سپلائی بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں، کیونکہ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک اہم حصے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ نندا دیوی کی آمد کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات سے تقریباً 81,000 ٹن خام تیل لے کر آرہا ایک اور بحری جہاز ’جگ لاڈکی‘ راستے میں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خلیج فارس کے علاقے میں آبنائے ہرمز کے مغرب میں 22 ہندوستانی پرچم والے بحری جہاز موجود تھے جن میں مجموعی طور پر عملے کے 611 لوگ سوار تھے۔