واشنگٹن (17 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی فون نمبر بلیک مارکیٹ میں تاجروں صحافیوں اور با اثر افراد کے درمیان فروخت ہو رہا ہے۔العربیہ نے میگزین ’’دی اٹلانٹک‘‘ میں شائع خبر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فون نمبر صحافیوں، حکام اور کاروباری شخصیات کے درمیان غیر رسمی تبادلے اور فروخت کا مرکز بن گیا ہے۔ اس تبادلے کا مقصد صدر سے براہ راست رابطے کا موقع حاصل کرنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کا ذاتی نمبر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے درمیان بلیک مارکیٹ میں سودے بازی اور فروخت کا موضوع بن چکا ہے۔ بعض صورتوں میں عالمی رہنماؤں یا بااثر شخصیات کے فون نمبروں کا تبادلہ امریکی صدر کا نمبر حاصل کرنے کے لیے کیا گیا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ نمبر ان امیر حلقوں کو فروخت کے لیے پیش کیا گیا جو براہ راست صدر تک رسائی یا اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران ٹرمپ دو آئی فون استعمال کرتے تھے جن میں سے ایک سوشل میڈیا پر پوسٹس کے لیے مخصوص تھا جبکہ دوسرا صرف کالز کے لیے تھا۔یہ دونوں فون ’’ وائٹ ہاؤس کمیونیکیشن ایجنسی ‘‘ اور وائٹ ہاؤس کی آئی ٹی ٹیموں کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے جو صدارت کے مواصلاتی نظام کی نگرانی کرتی ہیں۔ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر ان کا ذاتی فون نمبر صرف دوستوں کے ایک محدود حلقے اور چند صحافیوں کو معلوم تھا۔ لیکن ان کی نئی مدت کے تقریباً 14 ماہ گزرنے کے بعد یہ نمبر صحافیوں، تاجروں اور یہاں تک کہ کرپٹو کرنسی کے شعبے کے بعض سرمایہ کاروں کے درمیان بھی عام ہو چکا ہے۔