نئی دہلی: دہلی شراب پالیسی معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت فی الحال ملتوی کر دی گئی ہے اور اب اس کیس کی اگلی سماعت 2 اپریل کو ہوگی۔ ای ڈی نے یہ عرضی اس مقصد سے دائر کی ہے کہ نچلی عدالت کی جانب سے دیے گئے بعض ایسے ریمارکس کو ریکارڈ سے حذف کیا جائے، جنہیں ایجنسی اپنے خلاف سمجھتی ہے۔دہلی ہائی کورٹ میں جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران ای ڈی کی طرف سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مخالف فریق کے وکیل جواب داخل کرنے کے لیے وقت طلب کر رہے ہیں، جبکہ ان کے مطابق اس معاملے میں کسی جواب کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ دوسرا فریق جواب داخل کرنے میں تاخیر کیوں کر رہا ہے۔ایکسائز کیس میں سی بی آئی کی اپیل پر سماعت، دہلی ہائی کورٹ کا کیجریوال اور سسودیا سمیت 23 کو نوٹسواضح رہے کہ اس کیس میں اروند کیجریوال اور منیش سسودیا سمیت 23 ملزمان کو نچلی عدالت نے بری کر دیا تھا۔ بری کرتے وقت عدالت نے کچھ عمومی نوعیت کے تبصرے بھی کیے تھے، جنہیں ای ڈی نے اپنے خلاف تصور کیا ہے۔ اس سے قبل ہائی کورٹ نے اپنے ایک مشاہدے میں کہا تھا کہ یہ محض عمومی نوعیت کے ریمارکس ہیں اور ان کا براہ راست کیس سے تعلق نہیں ہے۔دہلی شراب گھوٹالہ کیس: اروند کیجریوال کا بنچ بدلنے کی درخواست کے لیے سپریم کورٹ سے رجوعتاہم ای ڈی کا موقف ہے کہ مستقبل میں جب اس کا مقدمہ زیر سماعت آئے گا تو انہی ریمارکس کو اس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے اس کی قانونی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر ایجنسی نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان تبصروں کو ریکارڈ سے ہٹا دیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔اب تمام نظریں 2 اپریل کو ہونے والی اگلی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں عدالت یہ طے کرے گی کہ ای ڈی کی اس درخواست کو کس حد تک قبول کیا جاتا ہے اور نچلی عدالت کے ریمارکس کے حوالے سے کیا فیصلہ سامنے آتا ہے۔