تہران (23 مارچ 2026) ایران نے کسی بھی حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز کے بعد اب خلیج فارس کو بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر دشمن نے ایرانی ساحل یا جزائر پر حملے کی کوشش کی تو صرف آبنائے ہرمز ہی نہیں بلکہ پورا خلیج فارس عملی طور پر بند ہو جائے گا اور اس کی ذمہ داری جارحیت کرنے والے پر عائد ہو گی۔اس سلسلے میں ایران کی دفاعی کونسل نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی تنصیبات پر کسی بھی حملے کی صورت میں خلیج فارس کے تمام راستوں اور ساحلی علاقوں میں بارودی سرنگیں نصب کر دی جائیں گی۔کونسل نے مزید کہا کہ دشمن ممالک کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا واحد طریقہ صرف ایران کے ساتھ ہم آہنگی ہی ہے۔قومی دفاع کونسل نے یہ بھی کہا ہے کہ جنگ میں شامل نہ ہونے والے ممالک آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریںواضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج کے شمالی حصہ میں خارگ جزیرے پر قبضے کا امکان زیر غور رکھا ہوا ہے۔ جب کہ خارگ جزیرہ ایرانی تیل کے 90 فیصد ایکسپورٹس کے لیے اہم ذخیرہ اور پمپنگ کا مرکز ہے۔’’آبنائے ہرمز بند نہیں ہے‘‘ ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ