جاپانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں، عراقچی

Wait 5 sec.

تہران (21 مارچ 2026): ایران نے جاپان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔جمعرات کو نیدرلینڈز، اٹلی، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا، جس میں خلیج میں تجارتی جہازوں پر ایران کے حملوں اور آبنائے کی مؤثر بندش کی مذمت کی گئی تھی، جاپان بھی اس مشترکہ اعلامیے میں شامل تھا۔ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جاپانی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ایران جاپان اور اس سے متعلقہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔جاپان کے حوالے سے اس بات کا تازہ اشارہ ملتا ہے کہ تہران اس اہم آبی گزرگاہ پر جزوی یا منتخب ناکہ بندی کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کیوڈو نیوز کو بتایا ’’ہم نے آبنائے کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، یہ صرف ان جہازوں کے لیے بند ہے جو ہمارے دشمن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی وہ ممالک جو ہم پر حملہ کرتے ہیں۔ دیگر ممالک کے جہاز آبنائے سے گزر سکتے ہیں۔‘‘اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںانھوں نے مزید کہا ’’ہم ان (ممالک) سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ محفوظ گزرگاہ کا کوئی طریقہ نکالا جا سکے۔ ہم انھیں محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انھیں صرف ہم سے رابطہ کرنا ہوگا تاکہ اس راستے کے بارے میں بات چیت کی جا سکے۔‘‘واضح رہے کہ جاپان اپنی خام تیل کی درآمدات کا 90 فی صد سے زیادہ مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی ترسیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، تاہم 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے یہ آبی گزرگاہ عملی طور پر بند رہی ہے۔انٹرویو میں انھوں نے مزید کہا کہ ہم عارضی نہیں مکمل، جامع اور دیرپا جنگ بندی چاہتے ہیں، ایسے اقدام کا خیر مقدم کریں گے جس سے جنگ مکمل ختم ہو، اس لیے مکمل جنگ بندی کی کسی بھی تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا حل تلاش کر رہے ہیں لیکن لگتا نہیں ہے کہ امریکا جارحیت روکنے کے لیے آمادہ ہو جائے گا۔جنوبی کوریا نے بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، وزارت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ’’مشترکہ اعلامیے میں شرکت اس بات کی تصدیق کے لیے اہم ہے کہ ہم آبنائے میں محفوظ اور آزادانہ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘