ایران نے امریکہ و برطانیہ کے فوجی اڈہ ’ڈیگو گارسیا‘ پر بیلسٹک میزائل سے کیا حملہ، منیش تیواری کا اظہار فکر

Wait 5 sec.

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان ایران نے 21 مارچ کو بحر ہند میں موجود امریکہ و برطانیہ کے فوجی اڈہ ’ڈیگو گارسیا‘ پر 2 بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ اس حملہ کے فوراً بعد دبئی میں بھی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان واقعات نے مغربی ایشیا میں تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی علاقہ سے تقریباً 4000 کلومیٹر دور واقع فوجی اڈہ ’ڈیگو گارسیا‘ پر یہ اب تک کا سب سے بڑا اور نایاب حملہ ہے۔ تاہم امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے دونوں میزائلوں کو فضا میں ہی مار گرایا گیا۔ حکام کے مطابق ایک میزائل پرواز کے دوران ہی ناکام ہو گیا، جبکہ دوسرے کو امریکی جنگی جہاز سے داغے گئے انٹرسیپٹر نے فضا میں تباہ کر دیا۔واضح رہے کہ چاگوس آرکیپیلاگو میں واقع ڈیگو گارسیا امریکہ-برطانیہ کا ایک اہم فوجی اڈہ ہے، جو افغانستان اور عراق میں امریکی بمباری کارروائیوں کے لیے اسٹیجنگ ہب کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے ڈیگو گارسیا کو نشانہ بنانا فوجی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایران کی میزائل رینج محدود ہے، لیکن 4000 کلومیٹر دور حملہ کی کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تہران اب یورپ میں واقع اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پنٹاگن نے فی الحال اس پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سے جنگ کا جغرافیہ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔اس درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر منیش تیواری نے ڈیگو گارسیا فوجی اڈہ پر حملہ کے بعد شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے واقعی ڈیگو گارسیا پر حملہ کی کوشش کی ہے، تو اس نے جنگ کے دائرے کو کافی وسیع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے مغربی ممالک کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کی حدود سے نکل کر جنوب کی سمت بھی حملہ کر سکتا ہے۔دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر کی سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارمر اپنے ہی عوام کی خواہشات کے برخلاف برطانوی اڈوں کو ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے برطانوی شہریوں کی جان خطرے میں پڑ رہی ہے اور ایران اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرے گا۔ ایران کا ماننا ہے کہ برطانیہ کا یہ قدم اسے براہِ راست جنگ میں گھسیٹ رہا ہے۔ دراصل کیر اسٹارمر نے امریکہ کو ایران کے خلاف اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ اس خبر پر سید عباس عراقچی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔