ایران نے 3,810 کلومیٹر دور ڈیاگو گارسیا فوجی اڈے پر میزائل داغ دیے، برطانیہ کا رد عمل

Wait 5 sec.

تہران (21 مارچ 2026): ایران نے بحرِ ہند میں واقع امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کر دیا.سی این این کے مطابق ایران نے جمعہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق ڈیاگو گارسیا پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے۔ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایران نے اس تنصیب پر، جو بحرِ ہند میں ایران کے ساحل سے تقریباً 2,370 میل (3,810 کلومیٹر) دور واقع ہے، دو میزائل فائر کیے، تاہم ان میں سے کوئی بھی ہدف پر نہیں لگا۔برطانیہ نے ان حملوں کی مذمت کی ہے جنھیں اس نے ’’ایران کے غیر ذمہ دارانہ حملے‘‘ قرار دیا ہے، برطانوی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز کہا کہ ’’ایران کے غیر ذمہ دارانہ حملے، خطے بھر میں کارروائیاں اور آبنائے ہرمز کو یرغمال بنانا برطانوی مفادات اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘جمعہ کے روز برطانوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس نے امریکا کو مخصوص دفاعی کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے، تاکہ ان میزائل تنصیبات اور صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے جو جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے ہفتے کے روز بتایا کہ ایران نے ڈیاگو گارسیا میں ظالم قوتوں کے فوجی اڈے پر 2 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ اس نے اس اقدام کو اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مغربی ایشیا سے باہر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ڈیاگو گارسیا امریکی بھاری بمبار طیاروں کے بیڑے کے لیے ایک اہم فضائی اڈہ ہے، طویل عرصے سے امریکا کی بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں کے لیے ایک اہم اسٹیجنگ پوسٹ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ڈیاگو گارسیاڈیاگو گارسیا جزائرِ چاگوس کا حصہ ہے، جو ماریشس کے شمال مشرق میں ایک ہزار میل (1,609 کلومیٹر) سے زیادہ فاصلے پر واقع جزائر کا مجموعہ ہے۔ 1814 میں نپولین کی شکست کے بعد برطانیہ نے ماریشس کے ساتھ ان جزائر پر قبضہ کر لیا تھا۔ ماریشس کو 1968 میں آزادی مل گئی، لیکن چاگوس جزائر اب بھی برطانوی کنٹرول میں ہیں۔ خطے میں سوویت فوجی اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکا اور برطانیہ نے 1971 میں ڈیاگو گارسیا پر ایک بڑا فوجی اڈہ قائم کیا۔یہ جزیرہ عراق پر دو حملوں کے آغاز میں استعمال ہوا، ایشیا بھر میں مشن انجام دینے والے بمبار طیاروں کے لیے ایک اہم لینڈنگ پوائنٹ رہا، اور اسے امریکا کے خفیہ حوالگی پروگرام سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اسی سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چاگوس جزائر کی ملکیت ماریشس کے حوالے کرنے کے برطانوی منصوبے پر برطانیہ کو ’’حماقت‘‘ کا مرتکب قرار دیا تھا۔ایک معاہدے کے تحت برطانیہ چاگوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کو منتقل کرے گا، جب کہ برطانیہ ڈیاگو گارسیا کے فوجی اڈے کے لیے 99 سالہ لیز کے بدلے ہر سال 136 ملین ڈالر ادا کرے گا، جس کے نتیجے میں امریکا اور برطانیہ اس تنصیب کو استعمال کرتے رہیں گے۔