’’کورونا بحران میں مزدوروں کی ہجرت یاد ہے؟ لوگ بھوکے پیاسے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ اب ملک میں ایل پی جی کی قلت کے سبب لوگ پھر سے اپنا کام دھندا چھوڑ کر گھر لوٹنے کو مجبور ہیں۔‘‘ یہ بیان کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کردہ ویڈیو کے ذریعہ دیا ہے۔ ویڈیو میں پہلے کورونا بحران کے وقت کی تصویر دکھائی گئی ہے، اور پھر بعد میں گجرات کے ریلوے اسٹیشن پر موجود بھیڑ کا نظارہ دکھایا گیا ہے۔ یہ بھیڑ سورت کے مزدوروں کی ہے جو ایل پی جی قلت کے سبب فیکٹریاں بند ہونے اور کاروبار ٹھپ ہونے کے سبب اپنے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے ہیں۔ یعنی مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا اثر ہندوستان میں مزدور طبقہ پر پڑنا شروع ہو گیا ہے۔मोदी की घटिया विदेश नीति का नतीजादेश की गरीब जनता भुगत रही है pic.twitter.com/8YS7F0Fuh4— Congress (@INCIndia) March 20, 2026मोदी सरकार ने महंगा किया जीना pic.twitter.com/i1zvHifkpR— Congress (@INCIndia) March 20, 2026اس ویڈیو نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے وزراء کے اس بیان کو خارج کر دیا ہے، جس میں بتایا جا رہا تھا کہ ایل پی جی بحران محض گمراہی اور غلط خبروں کی وجہ سے ہے۔ ویڈیو میں نامہ نگاروں کو کچھ مزدوروں سے بات کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ ایک مزدور کہتا ہے ’’3 دنوں سے ایک ہی وقت کھا رہے تھے، اسی لیے گاؤں جا رہے ہیں۔‘‘ دوسرے مزدور نے کہا کہ ’’گیس مہنگا ہو گیا ہے، 400 روپے کلو، اس لیے گاؤں جا رہے ہیں۔‘‘ مزدور یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کے ساتھ خواتین اور بچے سمیت تقریباً 10 لوگ گاؤں جا رہے ہیں۔ ایک تیسرا مزدور بولتا ہے کہ ’’گیس مہنگا ہو چکا ہے تو کیا کریں۔ لکڑی پر تو بنانے دیں گے نہیں، کوئی انتظام تو دیکھنا پڑے گا نہ!‘‘'तीन दिन से एक ही टाइम खाना खा रहे थे, इसलिए गांव लौट रहे हैं'- ये LPG की किल्लत से जूझ रहे गरीबों का दर्द है, जिन्हें नरेंद्र मोदी ने उनके हाल पर छोड़ दिया है।लोग बहुत परेशान हैं। गैस न मिलने से काम-धंधा छोड़कर, भूखे-प्यासे गुजरात से अपने घर लौटने को मजबूर हैं। मोदी सरकार… pic.twitter.com/E7tetVnhqg— Congress (@INCIndia) March 20, 2026BJP मॉडल देश के लिए घातक है pic.twitter.com/ZbiY9018sv— Congress (@INCIndia) March 20, 2026کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے کچھ میڈیا اداروں کی کلپنگ شیئر کی ہے، جس میں لوگ اپنی حالت زار بیان کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ان کی پریشانیوں کو دیکھ کر کانگریس نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک ویڈیو میں مشکل حالات کا سامنا کر رہا ایک شخص کہتا ہے ’’3 دن سے ایک ہی ٹائم کھانا کھا رہے تھے، اس لیے گاؤں لوٹ رہے ہیں۔‘‘ یہ بیان سامنے رکھنے کے بعد کانگریس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہ ایل پی جی کی قلت سے نبرد آزما غریبوں کا درد ہے، جنھیں نریندر مودی نے ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ لوگ بہت پریشان ہیں۔ گیس نہ ملنے سے کام دھندا چھوڑ کر بھوکے پیاسے گجرات سے اپنے گھر لوٹنے کو مجبور ہیں۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت کو شرم آنی چاہیے۔‘‘'यहां गैस नहीं मिल रही है। हम चार दिन से भूखे हैं, इसलिए गांव जा रहे हैं'गैस की किल्लत ने पूरे देश की झकझोर दिया है। गुजरात से लोग अपनी बसी-बसाई दुनिया और काम छोड़कर अपने गांव लौट रहे हैं।हालात बहुत खराब हैं और सरकार ने जिम्मेदारी से पल्ला झाड़ लिया है।देखिए रिपोर्ट pic.twitter.com/766MR2dzZh— Congress (@INCIndia) March 20, 2026ایک دیگر ویڈیو کلپ میں گیس کی قلت سے پریشان ہو کر گھر لوٹنے کو تیار مزدور نے کہا کہ ’’یہاں گیس نہیں مل رہی ہے۔ ہم 4 دنوں سے بھوکے ہیں، اس لیے گاؤں جا رہے ہیں۔‘‘ اس مزدور کی تکلیف پر کانگریس نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’گیس کی قلت نے پورے ملک کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ گجرات سے لوگ اپنی بسی بسائی دنیا اور کام چھوڑ کر اپنے گاؤں لوٹ رہے ہیں۔‘‘ کانگریس نے بی جے پی حکومت کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’حالات بہت خراب ہیں اور حکومت نے ذمہ داری سے پلّہ جھاڑ لیا ہے۔‘‘