اپوزیشن کے 8 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لے لی گئی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے منگل (17 مارچ) کو لوک سبھا میں معطل اراکین کی واپسی کی تحریک پیش کی، جسے ایوان نے منظوری دے دی۔ اسپیکر اوم برلا نے 3 فروری کو ان اراکین پارلیمنٹ کو معطل کر دیا تھا۔ کانگریس نے حال ہی میں اسپیکر اوم برلا سے اراکین پارلیمنٹ کی معطلی منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔ کانگریس نے جعمہ کے روز لوک سبھا کے اسپیکر سے درخواست کی کہ 8 اپوزیشن اراکین کی معطلی منسوخ کر دی جائے۔واضح رہے کہ بجٹ سیشن کے پہلے مرحلے کے دوران 3 فروری کو ایوان میں چیئر کی جانب کاغذ پھینکنے کی وجہ سے اپوزیشن کے 8 اراکین پارلیمنٹ کو بجٹ سیشن کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ معطل اراکین پارلیمنٹ میں کانگریس کے امرندر سنگھ راجہ وڈنگ، گرجیت سنگھ اوجلا، ہبی ایڈن، منیکم ٹیگور، پرشانت یادوراؤ پڈولے، سی کرن کمار ریڈی، ڈین کوریاکوس اور سی پی آئی (ایم) کے ایس وینکٹیشن شامل ہیں۔ معطلی کے بعد سے یہ اراکین پارلیمنٹ کی کارروائی کے دنوں میں پارلیمنٹ کے ’مکر دوار‘ پر احتجاج کرتے آ رہے تھے۔لوک سبھا نے کرن رجیجو کی جانب سے پیش کی گئی ایک تحریک کے ذریعے تمام اراکین پارلیمنٹ کی معطلیاں منسوخ کر دیں اور احتجاج کے دوران اپوزیشن کے مطالبات تسلیم کر لیے۔ انہوں نے ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے ایک ’لکشمن ریکھا‘ کھینچنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسپیکر اوم برلا نے اراکین پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ مستقبل میں پلے کارڈ یا اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی تصاویر کا استعمال نہ کریں۔اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی معطلی منسوخ ہونے کے بعد پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’یہ ایک اچھی بات ہے۔۔۔ یہ دونوں طرف سے ہونا چاہیے (ایوان کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے)۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ ’’یہ ایک بہت اچھی بات ہے کہ ہمارے 8 ساتھیوں کا روزانہ سیڑھیوں پر بیٹھ کر احتجاج کرنے کا افسوسناک سلسلہ اب ختم ہو گیا ہے۔ وہ اب ایوان کی کارروائی میں حصہ لے سکیں گے۔‘‘