نئی دہلی: مرکزی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں گھریلو ایل پی جی کی فراہمی مکمل طور پر معمول پر ہے اور حالیہ دنوں میں گھبراہٹ کے باعث ہونے والی بکنگ میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔ اتوار کو جاری بیان میں پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت نے کہا کہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔حکومت کے مطابق کمرشل ایل پی جی کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا ہے اور اس کا بڑا حصہ تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کو ترجیحی بنیاد پر فراہم کیا جا رہا ہے۔ وزارت نے کہا کہ کمرشل ایل پی جی کے کل الاٹمنٹ کا تقریباً پچاس فیصد انہی اہم شعبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ بیس فیصد حصہ ریستوراں، ڈھابوں، ہوٹلوں، صنعتی کینٹینوں، غذائی صنعت اور ڈیری شعبے کو دیا جا رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے پائپڈ نیچرل گیس کے نئے کنکشن کی سہولت بڑھائیں تاکہ ایل پی جی پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی کالا بازاری اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں چھاپے بھی جاری ہیں۔گیس بحران کے درمیان حکومت کا فیصلہ، پی این جی کنکشن رکھنے والوں کو اب نہیں ملے گی ایل پی جیحکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کے باوجود ملک میں پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے گئے ہیں۔ تمام ریفائنریاں اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی بھی کسی قسم کی قلت کی اطلاع نہیں ہے۔ایل پی جی بحران: پھر ملی بری خبر، دیہی علاقوں میں 25 کی جگہ اب 45 دنوں میں ہوگی گیس سلنڈر کی بکنگ!قدرتی گیس کے حوالے سے حکومت کا کہنا ہے کہ ترجیحی شعبوں کے لیے سپلائی محفوظ رکھی گئی ہے، جس میں گھریلو استعمال کے لیے پائپڈ گیس کی مکمل فراہمی اور گاڑیوں کے لیے سی این جی کی دستیابی شامل ہے۔ صنعتی اور تجارتی صارفین کو اوسط کھپت کے اسی فیصد کے مطابق گیس فراہم کی جا رہی ہے۔مزید برآں، حکومت نے سٹی گیس تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کمرشل اداروں کے لیے پائپڈ گیس کنکشن کو ترجیح دیں۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایل پی جی کی دستیابی کو یقینی بنانا اور عوام میں پھیلی بے چینی کو کم کرنا ہے۔