’ترقی کے نام پر آدیواسیوں کی زمین چھینی جا رہی ہے‘، وڈودرا کانفرنس میں راہل گاندھی کا خطاب

Wait 5 sec.

گجرات کے وڈودرا میں منعقدہ ’آدیواسی ادھیکار سمودھان سمیلن‘ میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے آدیواسیوں کے حقوق، زمین اور وسائل کے مسائل کو مرکزی موضوع بناتے ہوئے مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ’آدیواسی‘ لفظ کی تشریح سے کیا اور کہا کہ اس کا مطلب اس ملک کے اصل باشندے ہیں، جن کے پاس کبھی پورے ملک کی زمین تھی مگر وقت کے ساتھ ان سے یہ زمین چھین لی گئی۔راہل گاندھی نے کہا کہ آدیواسیوں کی تاریخ دراصل ان کے حقوق اور زمین کے چھن جانے کی تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی آدیواسیوں کو ترقی کے نام پر بے دخل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ’ونواسی‘ لفظ کے استعمال پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ لفظ آدیواسیوں کے اصل حق کو کمزور کرتا ہے اور انہیں محض جنگل میں رہنے والا ظاہر کرتا ہے، جبکہ ’آدیواسی‘ انہیں اس ملک کا اصل مالک تسلیم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت آدیواسیوں کے ’جل، جنگل، زمین‘ پر قبضہ کر کے انہیں بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے حوالے کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ترقیاتی منصوبے آتے ہیں تو سب سے پہلے آدیواسیوں کی زمین لی جاتی ہے اور اکثر انہیں مناسب معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف آئینی حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ آدیواسی رہنماؤں جیسے برسا منڈا کے نظریات پر بھی ضرب پڑتی ہے۔راہل گاندھی نے ذات پات کی مردم شماری کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں مختلف طبقات کی حقیقی حصہ داری سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ آدیواسی، دلت اور پسماندہ طبقات کی آبادی زیادہ ہونے کے باوجود انہیں حکومت، بیوروکریسی اور کارپوریٹ سیکٹر میں مناسب نمائندگی نہیں مل رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی بڑی کمپنیوں، نجی اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں ان طبقات کی موجودگی نہ کے برابر ہے۔انہوں نے نجکاری کی پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے ریزرویشن کا نظام کمزور ہوا ہے اور پسماندہ طبقات کے لیے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے سرکاری شعبوں میں ریزرویشن کے ذریعے آدیواسی اور دیگر طبقات کو روزگار ملتا تھا مگر نجکاری کے بعد یہ راستہ بند ہوتا جا رہا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا فائدہ صرف چند بڑے صنعت کاروں کو ہو رہا ہے، جبکہ عام لوگ ٹیکس ادا کر کے بھی محروم ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بڑے صنعت کاروں کے قرض معاف کیے جا رہے ہیں، جبکہ غریبوں کو کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔تعلیم اور صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو مضبوط کیے بغیر آدیواسی اور غریب طبقات کے بچوں کو معیاری تعلیم نہیں مل سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو سرکاری اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ سب کو یکساں مواقع مل سکیں۔اپنی تقریر کے آخری حصے میں راہل گاندھی نے بین الاقوامی اور قومی سیاست پر بھی بات کی اور الزام لگایا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی کمزور ہو رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور اس کا براہ راست اثر غریب اور آدیواسی طبقات پر پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہی دستاویز آدیواسیوں، غریبوں اور مزدوروں کے حقوق کی ضمانت دیتی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں اور ایک واضح منشور کے ساتھ آگے بڑھیں تاکہ مستقبل میں انہیں برابری کا حق مل سکے۔