مشرقِ وسطیٰ میں جنگ : عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی

Wait 5 sec.

نیویارک : مشرقِ وسطیٰ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ، جو جولائی2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران میں جاری حالیہ جنگ نے عالمی توانائی کی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور جولائی 2022 کے بعد یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 29.21 فیصد اضافے کے ساتھ 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت میں 26.9 فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت 117.6 ڈالر ہو گئی ہے۔اس سے قبل قیمتوں میں اس ہوشربا اضافے پر ردِعمل دیتے ہوئے ترجمان ایرانی فوج نے دشمن ممالک کو براہِ راست وارننگ دی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ "اگر دشمن تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل سے زائد برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے، تو وہ اس ‘کھیل’ کو جاری رکھے۔ دشمن جب تک تیل کی ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے، تب تک جنگ جاری رکھے۔”تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی قیمتیں ایرانی فوج کے بتائے ہوئے ہدف (200 ڈالر) تک بھی پہنچ سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا اور عالمی سپلائی چین مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔