دہلی میں گرمی نے توڑا 50 سال کا ریکارڈ! مارچ کے پہلے ہفتے میں درجہ حرارت 35 سے تجاوز، بیشتر ریاستوں کا بھی بُراحال

Wait 5 sec.

 شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہفتہ کو دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ گزشتہ 50 برسوں میں مارچ کے پہلے ہفتے میں درج کیا گیا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت رہا ہے۔ وہیں دہلی میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافہ ہو گا۔ دہلی سمیت اتر پردیش، بہار اور پہاڑی ریاستوں میں بھی درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہے۔مارچ کے پہلے ہفتے میں شدید گرمی کا الرٹ! گجرات سے مہاراشٹر تک درجہ حرارت میں ہوگا اضافہ، جانیں دہلی کا موسممحکمہ موسمیات کے گزشتہ 50 سالوں کے اعداد و شمار کے مطابق صفدرجنگ میٹرولوجیکل اسٹیشن میں 5 مارچ 1999 کو 34.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا جو مارچ کے پہلے 7 دنوں کے دوران ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت تھا۔ آئی ایم ڈی کے مطابق ہفتہ کو درجہ حرارت 35.7 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کے ساتھ ہی یہ گزشتہ 50 برسوں میں مارچ کے پہلے ہفتے کا سب سے گرم دن بن گیا۔ اتوار کو دہلی کے کئی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔مارچ شروع ہوتے ہی گرمی کی لہر کے اثرات اتر پردیش میں صاف نظر آنے لگے ہیں۔ راجدھانی لکھنؤ سمیت ریاست کے کئی اضلاع میں چلچلاتی دھوپ اور دوپہر کے وقت بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست کے کئی حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 3 سے 7 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ ریاست کے بیشتر اضلاع میں درجہ حرارت 34 سے 36 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔دہلی میں شدید گرمی نے توڑا 74 سال کا ریکارڈ، 70 سے زیادہ اموات!محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بہار میں موسم کے مزاج میں تبدیلی آئے گی۔ اس وقت اوڈیشہ اور بنگلہ دیش کے اوپر طوفانی گردش کے ساتھ ساتھ ہمالیائی علاقے میں آنے والے نئے مغربی طلاطم کے اثرات سے 9 مارچ کے بعد موسم میں تبدیلی کا امکان ہے۔ دریں اثنا، دہلی کی پڑوسی ریاست ہریانہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 6.2 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ ہریانہ کے حصار میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ ہریانہ، پنجاب اور راجستھان میں بھی درجہ حرارت بڑھنے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔دہرادون اور ریاست کے دیگر حصوں میں پچھلے کچھ دنوں سے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر کی کئی ریاستوں میں گزشتہ 2-3 دنوں سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30-31 ڈگری سیلسیس کے آس پاس ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر کے بیشتر حصوں میں ہفتہ کو معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم گزشتہ روز کے مقابلے دن کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ آنے والے دنوں میں موسم میں تبدیلی متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے مغربی طلاطم کے اثر سے 10 سے 12 مارچ تک بارش کی پیش گوئی کی ہے۔