ایران میں رجیم چینج ممکن نہیں، امریکا کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹ

Wait 5 sec.

واشنگٹن (08 مارچ 2026): امریکا کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں نے رپورٹ دی ہے کہ ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں سے بھی رجیم چینج ممکن نہیں ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی منتشر اپوزیشن حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہے، اگر ایران کی اعلیٰ قیادت ختم کی جائے تو بھی ملک کا فوجی اور مذہبی نظام برقرار رہ سکتا ہے۔نیشنل انٹیلیجنس کونسل کی اس خفیہ رپورٹ کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کردہ منصوبے پر سوالات اٹھاتے ہیں جس میں انھوں نے ایران کی قیادت کے ڈھانچے کو ’’صاف کرنے‘‘ اور اپنی پسند کا حکمران بٹھانے کی بات کی تھی۔یہ رپورٹ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو جنگ شروع کرنے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے مکمل ہوئی تھی۔میں ایران سے کوئی سیٹلمنٹ نہیں چاہتا، وہ صرف سرینڈر کرے، صدر ٹرمپرپورٹ کے نتائج سے واقف افراد کے مطابق انٹیلیجنس اداروں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کر دیا جائے تو ایران کا مذہبی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ ایسے طریقہ کار پر عمل کرے گا جو اقتدار کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے پہلے سے طے شدہ ہے۔ایجنسیوں نے اس بات کے امکانات کو ’’کمزور‘‘ قرار دیا کہ ایران کی منتشر اپوزیشن ملک کا کنٹرول سنبھال لے گی۔ واضح رہے کہ نیشنل انٹیلیجنس کونسل (این آئی سی) دراصل تجربہ کار تجزیہ کاروں پر مشتمل ایک ادارہ ہے جو خفیہ نوعیت کے تجزیاتی جائزے تیار کرتا ہے، جن کا مقصد واشنگٹن کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں کی اجتماعی رائے کو پیش کرنا ہوتا ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںوائٹ ہاؤس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا صدر کو فوجی کارروائی کی منظوری دینے سے پہلے اس تجزیے سے آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں۔ اب ایران میں یہ فوجی آپریشن تیزی سے وسعت اختیار کر گیا ہے، مشرق کی طرف اس میں بحرِ ہند میں آبدوزوں کی جنگ بھی شامل ہو گئی ہے جب کہ مغرب کی جانب نیٹو کے رکن ملک ترکی کے قریب میزائل مخالف جھڑپیں ہو رہی ہیں۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے ایک بیان میں کہا ’’صدر ٹرمپ اور انتظامیہ نے آپریشن ایپک فیوری کے حوالے سے اپنے مقاصد واضح طور پر بیان کر دیے ہیں، ایران کے بیلسٹک میزائل اور ان کی پیداواری صلاحیت کو تباہ کرنا، ان کی بحریہ کو مٹا دینا، انھیں اپنے اتحادی گروہوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے روکنا، اور انھیں کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا۔ ایرانی حکومت کو مکمل طور پر کچلا جا رہا ہے۔‘‘واضح رہے کہ امریکی خفیہ اداروں کے اس شبہے کا ذکر کہ ایران کی اپوزیشن اقتدار سنبھالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی، پہلے بھی نیویارک ٹائمز، روئٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل میں کیا جا چکا ہے۔ تاہم نیشنل انٹیلیجنس کونسل کی شمولیت اور اس کی جانب سے چھوٹے اور بڑے پیمانے کے حملوں کے ممکنہ نتائج کے تجزیے کے بارے میں پہلے کبھی رپورٹ نہیں کیا گیا تھا۔بروکنگز انسٹیٹیوشن کی نائب صدر اور ایران کی ماہر سوزین مالونی نے کہا کہ نیشنل انٹیلیجنس کونسل کی یہ پیش گوئی کہ ایران کے ادارے برقرار رہیں گے، اسلامی جمہوریہ کے نظام کے بارے میں اس کے گہرے علم پر مبنی ہے۔ انھوں نے کہا یہ ایرانی نظام اور ان اداروں اور عملوں کے بارے میں ایک گہری اور معلوماتی تشخیص معلوم ہوتی ہے جو کئی برسوں سے قائم ہیں۔