ملک میں پہلی بار محکمہ انکم ٹیکس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سیٹلائٹ امیجنگ جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے زرعی زمین کی خرید و فروخت میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا معاملہ پکڑا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے تقریباً 7000 کروڑ روپے کے لین دین میں ممکنہ ٹیکس چوری کا پتہ لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس معاملے میں راجستھان میں تقریباً 900 لوگوں کو نوٹس بھیجے گئے ہیں اور انہیں اپنے انکم ٹیکس ریٹرن پر نظر ثانی کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔لکس انڈسٹریز کے ٹھکانوں پر انکم ٹیکس کا چھاپہ، 200 کروڑ روپے ٹیکس چوری کا الزامیہ تمام معاملات جے پور کے شہری علاقے اور اس کے آس پاس کے قریب 8 کلومیٹر کے بفر زون میں ہوئے لین دین سے متعلق ہیں۔ اس علاقے میں تقریباً 250 گاؤں شامل ہیں جہاں گزشتہ چند سالوں میں زرعی زمین کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہوئی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے ٹیکنالوجی کی مدد سے جانچ میں پایا کہ کئی معاملات میں کیپٹل گین ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ہے۔محکمہ انکم ٹیکس نے ٹیکس چوری کو بے نقاب کرنے کے لیے آئی آئی ٹی دہلی کے ساتھ تعاون کیا۔ آئی آئی ٹی دہلی کی تکنیکی ٹیم نے اس علاقے کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کیں اور ڈیجیٹل میپنگ یعنی ان اراضی سے متعلق موجود ریکارڈ کا تجزیہ کیا۔ اس ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے جے پور میونسپل حدود سے 8 کلومیٹر تک کے بفر زون کی نشاندہی کی گئی۔ اسی بنیاد پر زمین کے سودوں کا تکنیکی طور پر جائزہ لیا گیا۔مشہور کمپنی ’ہندوستان یونی لیور‘ کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے دیا جھٹکا، تھمایا 963 کروڑ روپے ادا کرنے کا نوٹساس سلسلے میں سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز (سی بی ڈی ٹی) کے چیئرمین روی اگروال نے بتایا کہ اے آئی سے بنیادی طور پر 3 کاموں میں مددلی جارہی ہے۔ اول، اس سے یہ ٹریک کیا جارہا ہے کہ اس کے یوزرانکم ٹیکس پورٹل پرکتنی بار وزٹ کرتے ہیں۔ دوسرا، بہت زیادہ رقم کے لین دین کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ تیسرا، ایسے پین نمبر کا پتا لگایا جاتا ہے جوغلط دعوؤں سے منسلک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی کی مدد سے ٹیکس دپندگان کے مالی رویے میں پیٹرن کی شناخت کی جارہی ہے۔راجستھان: ریئل اسٹیٹ اور پان مسالہ کمپنیوں کے خلاف انکم ٹیکس کا چھاپہ، 9 کروڑ روپے نقد اور 10 کروڑ روپے کے زیورات برآمدگزشتہ سال جولائی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس نے اے آئی کی مدد سے 22-2021 سے اب تک کے 4 سالوں میں 11000 کروڑ روپئے کی اضافی ٹیکس آمدنی حاصل کی ہے۔ راجستھان میں محکمہ انکم ٹیکس نے انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 2(14)(3) کے تحت یہ کارروائی کی ہے۔ اس پروویژن کے مطابق اگر زرعی زمین میونسپل کارپوریشن یا میونسپل باڈی ایریا کے قریب واقع بفر زون میں آتی ہے اور اسے فروخت کیا جاتا ہے تو اس پر کیپٹل گینس ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ کئی لوگوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ زرعی اراضی کی فروخت ٹیکس سے مستثنیٰ ہے جب کہ یہ اصول شہری حدود کے قریب زمین پر لاگو ہوتا ہے۔جے پور کے علاوہ محکمہ انکم ٹیکس اب راجستھان میں اوراس کے آس پاس کے 14 شہروں میں زرعی زمین کی خرید و فروخت کی نگرانی کر رہا ہے۔ مستقبل میں جودھ پور، اجمیر، ادے پور، کوٹا، بیکانیر، بھرت پور، چتور گڑھ، بھیلواڑہ اور پالی جیسے شہروں میں بھی نوٹس جاری کیے جا سکتے ہیں۔