چین کا ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور امن کی بحالی کا مطالبہ

Wait 5 sec.

بیجنگ(8 مارچ 2026): چین نے مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں امن کی بحالی کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران کی صورتحال پر چین کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں امن کی بحالی کے لیے فوری طور پر جنگ بند ہونی چاہیے۔وانگ ای نے کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال عالمی توجہ کا مرکز ہے اور اس معاملے پر چین کا رویہ معروضی اور غیر جانبدارانہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چین کا اصولی موقف صرف جنگ بندی اور دشمنی کے خاتمے پر مبنی ہے۔چینی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ہتھیار ایک منحوس اوزار ہیں جنہیں بلا ضرورت استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ مشرق وسطیٰ آگ کی لپیٹ میں ہے، یہ ایک ایسی جنگ ہے جسے کبھی شروع نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس سے کسی کا فائدہ نہیں ہوگا۔وانگ ای نے ایران اور مشرق وسطیٰ کے مسائل کے حل کے لیے بنیادی اصول پیش کیے، انہوں نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام لازمی ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طاقت کا وحشیانہ استعمال کسی کی برتری ثابت نہیں کرتا، معصوم شہریوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے، مشرق وسطیٰ کے فیصلے یہاں کے ممالک کو خود کرنے چاہئیں، حکومتیں تبدیل کرنے کی بیرونی سازشوں کی کوئی حمایت نہیں کرے گا، تمام فریقین کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے اور برابری کی بنیاد پر اختلافات حل کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کو انصاف کے ساتھ کام کرنا چاہیے اور خطے میں امن و ترقی کے لیے اپنی توانائی صرف کرنی چاہیے، وانگ ای نے مزید کہا کہ چین ایک مخلص دوست اور اسٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ خطے میں نظم و ضبط اور لوگوں کے لیے سکون بحال کیا جا سکے۔