موجودہ رفتار سے ایران کتنے ماہ تک جنگ جاری رکھ سکتا ہے؟

Wait 5 sec.

(08 مارچ 2026): ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے حالیہ جنگ کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ایران موجودہ شدت اور رفتار کے ساتھ کم از کم 6 ماہ تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیاں ایران کے خلاف تیزی سے پھیل رہی ہیں، جب کہ ایران خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دے رہا ہے۔ایران کی طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت کا سب سے بڑا انحصار اس کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگرام پر ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف اندازوں کے مطابق ایران کے پاس 2500 سے 6000 تک بیلسٹک میزائل موجود ہیں، اور ایران ہر ماہ تقریباً 10 ہزار ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔گزشتہ روز وال اسٹریٹ جنرل نے رپورٹ کیا تھا کہ جنگ کے آغاز کے چند ہی دنوں میں ایران 200 سے زائد میزائل اور 120 ڈرون اسرائیل کی طرف داغ چکا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایران روایتی فضائی طاقت کے بغیر بھی میزائل اور ڈرون کے ذریعے طویل عرصے تک دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔ایرانی فوجی نظریہ براہ راست بڑی جنگ جیتنے کی بجائے طویل المدتی تھکا دینے والی جنگ پر مبنی ہے۔ اس حکمت عملی کے اہم عناصر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مسلسل حملے، بحری راستوں کو خطرے میں ڈالنا، خطے میں اتحادی گروہوں کا استعمال، دشمن کی معاشی اور دفاعی لاگت بڑھانا ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر ایران میزائل حملوں کی رفتار برقرار رکھتا ہے تو اسرائیل کو انٹرسیپٹر میزائل کی فراہمی اور دفاعی لاگت کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںایران صرف براہ راست جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ معاشی دباؤ پیدا کرنے کی حکمت عملی بھی استعمال کر رہا ہے، مثلاً آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کرنا، تیل اور گیس کی عالمی سپلائی کو خطرے میں ڈالنا اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا۔ روئٹرز کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران ڈرونز اور بحری بارودی سرنگوں کے ذریعے مہینوں تک آبنائے ہرمز کو متاثر کر سکتا ہے جس سے عالمی توانائی منڈی میں بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ایک اور اہم عنصر ایران کا سیاسی و عسکری نظام ہے، امریکی انٹیلیجنس کے ایک جائزے کے مطابق، جسے گزشتہ روز واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے، بڑے پیمانے کی جنگ بھی ایران کی حکومتی ساخت کو فوری طور پر گرا نہیں سکتی، سپریم لیڈر کے قتل کی صورت میں بھی اقتدار کے تسلسل کے لیے واضح نظام موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی جنگی حکمت عملی صرف فوجی نہیں بلکہ ادارتی استحکام پر بھی مبنی ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے چھ ماہ تک جنگ جاری رکھنے کے دعوے کو صرف ایک سیاسی بیان کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس سے ایران کی طویل المدتی جنگی حکمت عملی کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایران روایتی جنگ جیتنے کی بجائے میزائل، ڈرون، علاقائی نیٹ ورک اور معاشی دباؤ کے ذریعے ایسی جنگ لڑنا چاہتا ہے جو وقت کے ساتھ اپنے مخالفین کو تھکا دے۔اگر موجودہ تنازع طویل ہوتا ہے تو یہ صرف ایران اور اسرائیل یا امریکا کی جنگ نہیں رہے گی بلکہ پورے مشرق وسطیٰ، عالمی توانائی منڈی اور عالمی سیاست کو متاثر کرنے والی جنگ بن سکتی ہے۔حالیہ حملوں میں، پاسداران انقلاب کے مطابق، امریکی، اسرائیلی اڈوں اور تنصیبات میں 200 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، اور ان آپریشنز میں استعمال میزائل زیادہ تر پہلی اور دوسری جنریشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاسداران نے بتایا کہ کویت میں امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات کو درستگی سے نشانہ بنایا گیا، عریفجان بیس پر موجود امریکی فوجیوں کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا، کویتی حکام کے مطابق کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے فیول ٹینک ڈرون حملے کا نشانہ بنے ہیں۔