بیروت (08 مارچ 2026): ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ ایران میں اسکول پر حملہ جنگی جرم ہے، اس کی تحقیقات کی جائیں۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے گزشتہ روز کہا ہے کہ 28 فروری 2026 کو دوپہر سے قبل جنوبی ایران کے شہر مناب کے ایک پرائمری اسکول پر کیا جانے والا حملہ غیر قانونی تھا، جس میں ڈیڑھ سو بچے مارے گئے، اس حملے کی جنگی جرم کے طور پر تحقیقات کی جائیں۔یہ حملہ 28 فروری کی صبح ایران بھر میں امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے گئے سینکڑوں حملوں کے دوران کیا گیا تھا۔ نہ تو امریکا اور نہ ہی اسرائیل نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، اور ایک اسرائیلی فوجی ترجمان نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ انھیں اس علاقے میں کسی بھی [اسرائیلی فوجی] حملے کا علم نہیں ہے۔ جب کہ ایرانی حکومت نے اس حملے کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کے اتحاد کو قرار دیا ہے۔شجرہ طیبہ پرائمری اسکول، جو صوبہ ہرمزگان کے شہر مناب میں واقع ہے، پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک کمپاؤنڈ کی اندرونی سرحد پر واقع ہے۔ تاہم ہیومن رائٹس واچ کی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکول چار دیواری سے الگ ہے اور کمپاؤنڈ کے باقی حصے سے ہٹ کر اس کا سڑک کی طرف الگ داخلی راستہ ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںحملوں کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپاؤنڈ کے اندر مختلف عمارتوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جن میں اسکول بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ متعدد عمارتوں پر نظر آنے والے گولہ بارود کے داخل ہونے کے مقامات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حملہ انتہائی درست نشانہ لگانے والے گائیڈڈ ہتھیاروں کے ذریعے کیا گیا تھا، نہ کہ ایسے بے قابو ہتھیاروں کے ذریعے جن کے رہنمائی یا حرکت کے نظام میں خرابی آ گئی ہو اور وہ بے ترتیب طور پر اس علاقے میں آ گرے ہوں۔ہیومن رائٹس واچ کی ڈیجیٹل انویسٹیگیشنز لیب کی اوپن سورس محقق صوفیہ جونز نے کہا ’’اس حملے کی فوری اور مکمل تحقیقات ضروری ہیں، جس میں یہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ کیا ذمہ دار افراد کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہاں ایک اسکول موجود ہے اور دوپہر سے پہلے وہ بچوں اور اساتذہ سے بھرا ہوگا۔‘‘انھوں نے مزید کہا ’’غیر قانونی حملے کے ذمہ دار افراد کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے، جس میں جنگی جرائم کے ذمہ دار ہر شخص کے خلاف مقدمات بھی شامل ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ایران میں اسکول پر حملے میں طالبات سمیت 160 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔