خانہ کعبہ میں نصب جنتی پتھر ’’حجر اسود‘‘ کی صفائی کیسے کی جاتی ہے؟

Wait 5 sec.

مکہ مکرمہ (8 مارچ 2026): خانہ کعبہ کے مشرقی کونے میں نصب جنت سے لایا گیا حجر اسود بیت اللہ میں امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔خانہ کعبہ میں مشرقی کونے میں ایک سیاہ پتھر نصب ہے۔ اس پتھر کو حجر اسود کہتے ہیں، جو جنت سے لایا گیا پتھر بتایا جاتا ہے۔یوں تو خانہ کعبہ کا گوشہ گوشہ اور ہر ذرہ مقدس اور ممتاز ہے۔ تاہم حجر اسود کو بیت اللہ میں یوں امتیازی حیثیت حاصل ہے کہ یہاں سے ہی طواف کعبہ کا آغاز اور یہیں سے طواف کعبہ کا اختتام کیا جاتا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس سنگ ہائے میل کا تعلق پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی سنت سے بھی ہے۔ اور حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ جیسے انبیا کرام کی تاریخ سے بھی۔تاریخ اسلام کے مطابق اعلان نبوت سے قبل جب کعبہ میں حجر اسود کی تنصیب کا وقت آیا تو سرداران مکہ میں اس پر جھگڑا ہوا کہ کون اس کو نصب کرے گا پھر نبی کریم ﷺ کے مدبرانہ فیصلے پر عمل کے بعد اس پتھر کو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے خانہ خدا میں نصب کیا۔زائرین پیغمبرِ اسلام کی سنت کی اِتباع کرتے ہوئے، زائرین حج وعمرہ حجرِ اسود کو ہاتھ لگاتے ہیں، اسے بوسہ دیتے ہیں اور عقیدت کی انتہائی علامتِ احترام کے طور پر طواف کے دوران حجرِ اسود کی جانب اشارہ بھی کرتے ہیں۔رُکنِ یمانی جو کعبے کی جنوبی سمت میں ہے، روایت کے طور پر طواف کے دوران اسے ہاتھ لگایا جاتا ہے۔ اِس کا تعلق اُس خاص دُعا سے ہے جس میں حیاتِ دنیوی اور حیاتِ اُخروی دونوں میں بھلائی اور خیر طلب کی جاتی ہے۔اِن متبرک علامتوں کے تحفظ کے لیے سعودی حکومت نے ایک جامع نظام کو اختیار کیا ہُوا ہے اور ان کے بندوبست کا انتظام کر رکھا ہے جس میں اِن مقدس نشانیوں کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جاتی ہے۔حجرِ اسود کی حفاظت کے لیے اِسے چاندی کے فریم میں محفوظ کیا گیا ہے جبکہ اس کی صفائی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مخصوص تربیت یافتہ افراد اور نگرانی کے بہترین نظام سے یہاں آنے والے افراد کی دیکھ بھال اور طواف میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ترتیب کو خاص طور پر ملحوظ رکھا جاتا ہے۔مدینہ منورہ کا وہ مبارک کنواں، جس سے نبی آخر الزماں ﷺ نے پانی نوش فرمایا تھا!