آرمی چیف رینڈی جارج کو کیوں برطرف کیا گیا؟ امریکی عہدے دار نے وجہ بتا دی

Wait 5 sec.

واشنگٹن (04 اپریل 2026): امریکا کے فوجی عہدے داروں نے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کی جانب سے اعلیٰ جنرلوں کی برطرفی کو پاگل پن قرار دے دیا۔ایگزیوس کے مطابق جنرلوں کی برطرفی اور جنگ کے طریقہ کار پر امریکی عہدے داروں کو تشویش لا حق ہو گئی ہے، ایک فوجی عہدے دار نے بتایا کہ آرمی چیف رینڈی جارج کی برطرفی شخصیات میں تصادم کی وجہ سے ہوئی ہے۔امریکی ویب سائٹ نے رپورٹ کیا کہ آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج اور آرمی کے جنرل ڈیوڈ ہوڈنے کو عہدوں سے ہٹایا جانا فوجی قیادت کے لیے اچانک اور حیران کن ثابت ہوا ہے، اور اس سے دفاعی حکام میں ایران کی جنگ اور نئی ٹیکنالوجی و حکمتِ عملیوں کے طویل مدتی نفاذ پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔جارج اور ہوڈنے ان جرنیلوں اور اعلیٰ فوجی افسران کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنھیں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے برطرف کیا ہے۔ ان اچانک فیصلوں نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، انٹیلیجنس اداروں اور جنگی کمانڈز کی ساخت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںدو امریکی حکام کے مطابق جارج کی برطرفی کی وجہ شخصی اختلافات تھے، نہ کہ فوج کی سمت کے بارے میں کسی پالیسی اختلاف۔ ان میں سے ایک اہلکار نے دورانِ جنگ اس برطرفی کو ’’پاگل پن‘‘ قرار دیا۔گزشتہ سال کے آخر میں ہوڈنے کو ٹرانسفارمیشن اینڈ ٹریننگ کمانڈ (T2COM) کا سربراہ بنایا گیا تھا، جس کا مقصد فوج میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے استعمال کو تیز کرنا تھا۔ یہ ادارہ آرمی ٹرانسفارمیشن انیشی ایٹو سے وجود میں آیا، جس کی قیادت میں جارج کا بھی کردار تھا۔یہ برطرفیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب آرمی کی 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے کچھ دستے مشرقِ وسطیٰ روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ فوج مربوط فضائی اور میزائل دفاع کی ذمہ دار بھی ہے۔ایک تیسرے امریکی اہلکار نے کہا ’’یہ ایک فور اسٹار جنرل ہے جو فعال طور پر سازوسامان اور اہلکاروں کو جنگی محاذ پر پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے، امریکی افواج کے تحفظ کے لیے، اور آپ اسے برطرف کر دیتے ہیں؟ وہ بھی جنگ کے دوران؟‘‘خیال رہے کہ 20 مارچ کو جارج نے کہا تھا کہ ایران کی جنگ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ہتھیاروں کی پیداوار اور ملکی صلاحیت میں اضافہ ضروری ہے۔