اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، جہاں بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ، شہری ہلاکتیں اور امدادی سرگرمیوں میں شدید رکاوٹیں سامنے آ رہی ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ادارے اوسی ایچ اے نے بتایا کہ لبنان میں 11 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک کے تقریباً 15 فیصد علاقے نقل مکانی کے احکامات سے متاثر ہوئے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث بے گھر خاندان عارضی پناہ گاہوں، رشتہ داروں کے گھروں یا غیر رسمی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ کئی افراد اب بھی متاثرہ علاقوں میں امداد کے منتظر ہیں۔ادھر اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارییواین ایف پی اے کے زیرِ انتظام نصف سے زائد طبی مراکز بند ہو چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ اسپتال شدید دباؤ اور عملے کی کمی کا شکار ہیں۔امدادی اداروں نے لبنان میں موبائل طبی یونٹس بھی تعینات کیے ہیں جو زچگی کی سہولیات، ہنگامی طبی امداد اور نفسیاتی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔او سی ایچ اے نے خبردار کیا کہ عالمی نقل و حمل کے نظام میں رکاوٹوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس سے بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔ ادارے نے عالمی برادری سے فوری جنگ بندی، شہریوں اور طبی عملے کے تحفظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی امن فورس (یونیفل) نے سرحدی صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی افواج نے اپنی کارروائیاں مزید آگے بڑھا دی ہیں۔غزہ پٹی میں بھی انسانی بحران بدستور سنگین ہے، جہاں امدادی سامان کی ترسیل کے لیے صرف ایک راستہ کھلا ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںاقوامِ متحدہ کے مطابق خوراک، طبی سہولیات اور رہائش کی شدید قلت ہے، جبکہ لاکھوں افراد اب بھی بے گھر ہیں۔خوراک کی کمی کے باعث کئی خاندان غیر محفوظ طریقوں سے کھانا پکانے پر مجبور ہیں، جبکہ طبی سہولیات کی فراہمی بھی محدود وسائل کے باعث متاثر ہو رہی ہے۔