ایران کےپاس 50 فیصد سے زائد میزائل لانچرز اور ہزاروں ڈرونزموجود ہونے کا انکشاف

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکی انٹیلی جنس نے ایران کے پاس پچاس فیصد سے زائد میزائل لانچرز اور ہزاروں ڈرونز موجود ہونے کا انکشاف کیا۔تفصیلات کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کی عسکری قوت، بالخصوص میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی، بڑے پیمانے پر محفوظ اور فعال ہے اور اب بھی پورے خطے میں کسی بھی وقت بڑی تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہرپورٹ میں بتایا گیا یران نے اپنے 50 فیصد سے زائد میزائل لانچرز کو اب بھی برقرار رکھا ہوا ہے، جو کسی بھی بڑے حملے کے لیے تیار حالت میں ہیں ، اس کے ساتھ ایران کے پاس ہزاروں ڈرونز کا ذخیرہ موجود ہے جو مکمل طور پر فعال ہیں اور کسی بھی مشن کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔.رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کی ‘ون وے’ (خودکش) ڈرون صلاحیت کا تقریباً 50 فیصد حصہ اب بھی مکمل طور پر فعال ہے اور ساحلی دفاعی کروز میزائلوں کا ایک بڑا حصہ اب بھی موجود ہے، یہ میزائل خلیج فارس اور خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ساحلی علاقوں میں نصب یہ ہتھیار کسی بھی بحری نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے عالمی تجارتی گزرگاہوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، اب تک ایران کے اندر 12,300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، فوجی آپریشنز میں ایران کی اعلیٰ قیادت بشمول علی خامنہ ای اور علی لاریجانی جان بحق ہو چکے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے حکام کا دعویٰ ہے کہ ایرانی بحری افواج کا بڑا حصہ تباہ کر دیا گیا ہے اور اسلحہ سازی کی کئی فیکٹریاں ناکارہ ہو چکی ہیں۔