لندن (04 اپریل 2026): لندن میں یہودی کمیونٹی کی چار ایمبولینس گاڑیاں نذرِ آتش کرنے کے واقعے میں ملوث 3 افراد پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے، جب کہ واقعے کی تفتیش مذہبی نفرت پر مبنی جرم کے طور پر کی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق تینوں گرفتار ملزمان برٹش پاکستانی دوہری شہریت رکھتے ہیں، جن میں 20 سالہ حمزہ اقبال، 19 سالہ ریحان خان اور ایک 17 سالہ نوجوان شامل ہے۔ تینوں کو لندن کے علاقوں لیٹن اور والتھم اسٹو میں واقع گھروں سے گرفتار کیا گیا۔ یہ گرفتاریاں میٹ پولیس اور انسداد دہشت گردی یونٹ کی مشترکہ کارروائی کے دوران عمل میں آئیں۔حکام کے مطابق ملزمان نے 23 مارچ کو لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں علی الصبح ایک سیناگوگ کی پارکنگ میں کھڑی یہودی فلاحی ادارے کی چار ایمبولینس گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں تین مشتبہ افراد کو واضح طور پر دیکھا گیا، جن کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی۔ملزمان پر آتش زدگی، املاک کو نقصان پہنچانے اور انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق ان افراد کو بدھ کے روز مشرقی لندن کے تین مختلف مقامات سے اس حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔برطانوی شہریت والے حمزہ اقبال اور ریحان خان، لیٹن کے رہائشی ہیں، جب کہ دہری شہریت کا حامل 17 سالہ لڑکا والتھم اسٹو سے تعلق رکھتا ہے، جس کا نام قانونی وجوہ پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا، ہفتے کے روز ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوئے۔ پولیس کے مطابق انسداد دہشت گردی یونٹ اس کیس کی قیادت کر رہا ہے، تاہم فی الحال اس واقعے کو دہشت گردی قرار نہیں دیا گیا۔https://urdu.arynews.tv/wp-content/uploads/2026/04/london-cctv.mp4فائر سروس کے مطابق واقعے کے وقت ایمبولینسوں میں موجود آکسیجن سلنڈرز پھٹنے سے قریبی گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئی تھیں، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لندن پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کو مذہبی بنیادوں پر ہونے والے جرم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس کی مزید تفتیش جاری ہے، جب کہ کیس کو باضابطہ طور پر انسداد دہشت گردی حکام کے حوالے کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔برطانوی سیکریٹری صحت ویز اسٹریٹنگ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جائے وقوع کا دورہ کیا اور یہودی کمیونٹی سے اظہارِ یک جہتی کیا۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ ادارے کو چار نئی ایمبولینس فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ادھر وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ایسے واقعات کی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں اور سب کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، جب کہ آرچ بشپ آف کینٹربری نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے قابلِ افسوس قرار دیا۔